مسلم لیگ ن میں فیصلوں کا حتمی اختیار نواز شریف کے پاس ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ اگرچہ پارٹی کے اندر مشاورت کا عمل جاری رہتا ہے، تاہم فیصلوں کا حتمی اختیار نواز شریف کے پاس ہے۔
مزید پڑھیں: نواز شریف ملکی سیاست میں اہم کردار کیوں نہیں ادا کر رہے، رکاوٹ کون ہے؟
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ محمود خان اچکزئی ایک سینیئر سیاستدان ہیں اور نواز شریف اپنے پرانے سیاسی ساتھیوں کی قدر کرتے ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ کے مطابق آئین اور قانون میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا طریقہ واضح طور پر درج ہے اور یہ عمل اسپیکر کی نگرانی میں مکمل کیا گیا۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا معاملہ بھی جلد نمٹا لیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے حلف اٹھانے کے دن ہی اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت نے سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے میثاقِ معیشت پر بات کرنے کی دعوت دی تھی، کیونکہ چند افراد کی رہائی سے زیادہ اہم عوامی فلاح کے امور ہیں، عوام نے ووٹ بھی اسی مقصد کے لیے دیا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ جیل میں ملاقات کا معاملہ مکمل طور پر قانونی ہے، سزا یافتہ شخص کو اسی لیے قید میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ روزمرہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لے سکے۔ جو کام براہِ راست ممکن نہ ہو، وہ بالواسطہ طور پر بھی نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہاکہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے بھی موجود ہیں، جن کے مطابق سزا یافتہ فرد ملکی سیاست کی قیادت نہیں کر سکتا۔
مزید پڑھیں: نواز شریف سیاست سے کنارہ کش نہیں ہوئے، 5 سال بھرپور سیاست کریں گے: مریم نواز
ان کا کہنا تھا کہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ اپوزیشن ہر معاملے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مشاورت کی بات کیوں کرتی ہے، جبکہ سیاسی امور کے لیے ایک طے شدہ آئینی اور قانونی طریقہ کار موجود ہوتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اپوزیشن لیڈر سینیٹ اعظم نذیر تارڑ مسلم لیگ ن مشاورتی عمل وزیر قانون وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر سینیٹ اعظم نذیر تارڑ مسلم لیگ ن مشاورتی عمل وی نیوز اعظم نذیر تارڑ نواز شریف
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔