وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ اگرچہ پارٹی کے اندر مشاورت کا عمل جاری رہتا ہے، تاہم فیصلوں کا حتمی اختیار نواز شریف کے پاس ہے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف ملکی سیاست میں اہم کردار کیوں نہیں ادا کر رہے، رکاوٹ کون ہے؟

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ محمود خان اچکزئی ایک سینیئر سیاستدان ہیں اور نواز شریف اپنے پرانے سیاسی ساتھیوں کی قدر کرتے ہیں۔

اعظم نذیر تارڑ کے مطابق آئین اور قانون میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا طریقہ واضح طور پر درج ہے اور یہ عمل اسپیکر کی نگرانی میں مکمل کیا گیا۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا معاملہ بھی جلد نمٹا لیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے حلف اٹھانے کے دن ہی اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت نے سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے میثاقِ معیشت پر بات کرنے کی دعوت دی تھی، کیونکہ چند افراد کی رہائی سے زیادہ اہم عوامی فلاح کے امور ہیں، عوام نے ووٹ بھی اسی مقصد کے لیے دیا ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ جیل میں ملاقات کا معاملہ مکمل طور پر قانونی ہے، سزا یافتہ شخص کو اسی لیے قید میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ روزمرہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لے سکے۔ جو کام براہِ راست ممکن نہ ہو، وہ بالواسطہ طور پر بھی نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہاکہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے بھی موجود ہیں، جن کے مطابق سزا یافتہ فرد ملکی سیاست کی قیادت نہیں کر سکتا۔

مزید پڑھیں: نواز شریف سیاست سے کنارہ کش نہیں ہوئے، 5 سال بھرپور سیاست کریں گے: مریم نواز

ان کا کہنا تھا کہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ اپوزیشن ہر معاملے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مشاورت کی بات کیوں کرتی ہے، جبکہ سیاسی امور کے لیے ایک طے شدہ آئینی اور قانونی طریقہ کار موجود ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اپوزیشن لیڈر سینیٹ اعظم نذیر تارڑ مسلم لیگ ن مشاورتی عمل وزیر قانون وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر سینیٹ اعظم نذیر تارڑ مسلم لیگ ن مشاورتی عمل وی نیوز اعظم نذیر تارڑ نواز شریف

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف