مذاکرات کے لیے محمود اچکزئی اگر عمران خان کی رہائی کے مطالبے سے پیچھے ہٹے تو بھی قبول ہوگا، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے محمود خان اچکزئی پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اپوزیشن لیڈر نامزد کیا اس لیے اچکزئی کا ہر فیصلہ پی ٹی آئی کو قبول ہوگا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کے خیال میں محمود خان اچکزئی عمران خان کی رہائی کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کا نوٹیفکیشن جاری
وی ایکسکلوزیو میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ محمود خان اچکزئی نہ صرف ایک پارلیمنٹیرین کے طور پر اپنا کردار ادا کریں گے بلکہ اپنے آئینی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے پارٹی کو آگے بڑھائیں گے اور جمہوریت کے استحکام میں اہم کردار ادا کریں گے۔
’دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں‘بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کا ہر صورت خاتمہ ہونا چاہیے اور اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی یا رعایت کی کوئی گنجائش نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جو عناصر ہمارے جوانوں، افسران، فوج، پولیس، سرکاری ملازمین، معززین، مساجد، امام بارگاہوں، نمازگاہوں اور جنازہ گاہوں کو نشانہ بناتے ہیں ان کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ ہی کوئی سرحد، وہ سب دہشتگرد ہیں اور ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کسی صورت قابل قبول نہیں اور اس کے خلاف ایک واضح، مضبوط اور دو ٹوک مؤقف ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیے: ٹی ٹی پی دہشتگرد جماعت، اس معاملے پر اداروں کے مؤقف کے ساتھ ہیں، بیرسٹر گوہر
تاہم خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے جرگے کے انعقاد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ ایک سیاسی عمل کا حصہ تھا اس پہلو کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کوئی دہشتگردی کی حمایت کر رہا ہے۔
اپوزیشن اتحاد کا پہیہ جام ہڑتال کا اعلانبیرسٹر گوہر نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد کی جانب سے قومی کانفرنس میں احتجاجی تحریک کے تحت شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق عوام کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے جس کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا جیسا کہ ماضی میں بھی کیا جا چکا ہے اور یہ احتجاج پورے پاکستان میں ہوگا۔
مزید پڑھیں: حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار، سیاسی قیدی رہا اور نئے الیکشن کرائے جائیں، اپوزیشن اتحاد
اپوزیشن لیڈر کے نوٹیفکیشن سے متعلق بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 7 اگست سے یہ نوٹیفکیشن روکا ہوا تھا جس کا اب جاری ہونا ایک مثبت پیشرفت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ فیصلہ تاخیر سے آیا تاہم اس کے باوجود اسے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔
’عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی کے لیے بھرپور کوششیں کی جائیں گی‘بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی کے لیے بھی بھرپور کوششیں کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیے: سردی پھر رمضان، پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے نئے سال میں کب سے احتجاج کا پلان بنا رہی ہے؟
انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت کا مؤقف واضح ہے کہ سیاست میں اتحاد اور مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر چلنا جمہوری عمل کا حصہ ہے جیسا کہ حکومت اور پارلیمان میں بھی متعدد جماعتیں محدود نمائندگی کے باوجود شامل ہوتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپوزیشن اتحاد کی پہیہ جام ہڑتال اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی بشریٰ بی بی بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی عمران خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی بیرسٹر گوہر پی ٹی ا ئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اپوزیشن اتحاد اپوزیشن لیڈر کی رہائی کے کرتے ہوئے انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔