اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ محمود اچکزئی اور نواز شریف کے رابطے کا مجھے علم نہیں۔جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کے دوران راناثناء اللّٰہ نے کہا کہ آج ہم نے بہتر اور مثبت اقدام کیا ہے، پی ٹی آئی بھی مثبت اقدامات کرے، اس طرح اعتمادی سازی ہوتی ہے۔ اگلے ہفتے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کا پراسس شروع ہوجائے گا۔

وزیراعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ محمود اچکزئی اور نواز شریف کے رابطے کا انہیں علم نہیں، اچکزئی ہمارے مشکل وقت کے ساتھی ہیں ان کے بارے میں نواز شریف اور شہباز شریف کے مثبت خیالات ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ڈائیلاگ کے حق میں نہیں، پی ٹی آئی والے جب ملتے ہیں تو کہتے ہیں بانی پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔

مذاکرات کا ماحول نظر نہیں آرہا، جسے اصولوں پر بات کرنی ہے وہ ہم سے بات کرے، سلمان اکرم راجا

رانا ثناء اللّٰہ نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی والے یہ بھی کہتے ہیں کہ بانی سے ملنے کا موقع ملے تووہ ان کو آمادہ کرلیں گے۔انہوں نے کہا کہ اسپیکر نے اپوزیشن اراکین کی رائے معلوم کرنے کے بعد پراسس کیا اور محمود خان اچکزئی کا نوٹیفکیشن ہوگیا۔وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ سینیٹ میں علامہ راجہ ناصر عباس کے بطور اپوزیشن لیڈر تعیناتی کا پراسس چیئرمین سینیٹ کے آتے ہی شروع ہوجائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگلے ہفتے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کا پراسس شروع ہوجائے گا، پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ پی ٹی آئی واپس آئے اور اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں بھی بیٹھے، انہیں کچھ چیزوں پر حکومت سے تعاون کرنا چاہیے اور بعض جگہوں پر اپنے معاملات میں بہتری لانی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والوں کی تیاریوں سے لگتا ہے کہ وہ 8 فروری کی کال کو واپس نہیں لیں گے، وہ احتجاج کی ناکامی کے بعد پارلیمنٹ میں آئیں اور بھرپور کردار ادا کریں۔

پاکستان سے تعلقات حقیقی معنوں میں باہمی طور پر مفید ہیں، روسی صدر پیوٹن

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: نواز شریف پی ٹی ا ئی نے کہا کہ شریف کے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا