حلف دیتا ہوں کبھی سیاست میں نہیں آؤں گا، اقرار الحسن کی پرانی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
مشہور ٹی وی اینکر اور’پاکستان عوام راج تحریک‘ کے بانی اقرار الحسن نے اعلان کیا ہے کہ وہ کسی پارٹی یا حکومتی عہدے پر فائز نہیں ہوں گے اور نہ ہی الیکشن لڑیں گے۔
لیکن سوشل میڈیا صارفین اس بات پر ان سے زیادہ قائل نظر نہیں آئے اور اب ان کی 2024 کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں انہوں نے اینکر اور صحافی وسیم بادامی کے پروگرام میں ایک سوال کے جواب میں حلف دیا تھا کہ میں کبھی سیاست میں نہیں آؤں گا۔
صحافی اقرار الحسن حلف دیتا ہوں کبھی سیاست میں نہیں آوں گا۔ 2024
عوامی راج پارٹی کے صدر اقرار الحسن کا حلف، میں کبھی کوئی عہدہ نہیں لونگا۔2026pic.
— Sabee Kazmi (@SabeeKazmi786) January 16, 2026
ساتھ ہی انہوں نے وضاحت کی کہ سیاست میں آنے سے مراد یہ ہے کہ میں کسی عہدے، ایم این اے، ایم پی اے، سینیٹر یا وزیر کی سیٹ کے لیے، کسی عہدے کے لیے لڑتا ہوا نظر نہیں آؤں گا ۔
صارفین کا کہنا ہے ماضی میں وہ سیاست میں نہ آنے کا بھی کہتے تھے لیکن اب سیاست میں آ گئے ہیں اور ایک بار پھر حلف دے رہے ہیں کہ میں کوئی عہدہ نہیں لوں گا۔ ایک صارف نے لکھا کہ اب وہ عہدہ لینے کے بعد کہیں گے کہ حلف دیتا ہوں کہ کوںٔی مراعات نہیں لوں گا۔
عہدہ لینے کے بعد کہےگا کہ حلف دیتا ہوں کہ کوںٔی مراعات نہیں لونگا۔
2028کا متوقع حلف کچھ ایسا ہوگا@MaleehaHashmey @SMunirMaan #ہر_جنریشن_کا_لیڈر_عمران_خان #خان_غیرقانونی_قیدتنہائی_میں https://t.co/As9pAhh5gI
— ???? فضل احد شرجیل (@Shrjfa) January 16, 2026
عطا خان نے کہا کہ واہ واہ کیا مذاق ہے۔ پہلے کہا سیاست میں نہیں آؤں گا پھر سیاست میں آگئے اور اب سیاسی پارٹی کا ہیڈ ہو کر کہتے ہیں کہ سیاسی عہدہ نہیں لوں گا۔ کیا پاکستانی قوم اتنی سادہ اور نا سمجھ ہے؟
واہ واہ کیا جوک ہے۔
سیاست میں نہیں آؤگا پھر سیاست میں آگۓ۔
اب سیاسی پارٹی کا ہیڈ ہو کر کہتا ہے سیاسی عہدہ نہیں لونگا۔ @SabeeKazmi786
کیا پاکستانی قوم اتنی سادہ اور نا سمجھ ہی؟ https://t.co/fCTvCQbaqF
— Atta Khan 804 (@AttaBangash804) January 16, 2026
آمنہ زبیر نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) بہت ترقی کر گئی ہے۔
I think AI has been way too advanced @iqrarulhassan pic.twitter.com/bKCXcpcCcN
— Amina Zubair (@amnakhani123) January 15, 2026
واضح رہے کہ اقرار الحسن کا کہنا ہے کہ میں صرف ایک فکری تحریک کا آغاز کر رہا ہوں، تاکہ یہ جماعت کسی ایک شخص کی نہیں بلکہ عوام کی ہو۔ یہ اعلان ان کی جانب سے ایک حلف کے طور پر کیا گیا ہے، جو جماعت کو شخصیت پرستی سے بچانے کا مقصد رکھتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’پاکستان عوام راج تحریک‘ اقرار الحسن اقرار الحسن سیاسی جماعت اے آئی نئی سیاسی جماعت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان عوام راج تحریک اقرار الحسن اقرار الحسن سیاسی جماعت اے ا ئی نئی سیاسی جماعت سیاست میں نہیں اقرار الحسن عہدہ نہیں نہیں ا کہ میں
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔