پارک سے لاپتا 3 سالہ انس 4 روز بعد مل گیا، اغوا یا گمشدگی
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (سٹاف رپورٹر) نارتھ ناظم آباد کے فتح پارک سے پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والا 3 سالہ بچہ انس 4 روز بعد بخیریت اپنے گھر پہنچ گیا ہے۔ تاہم، بچے کی واپسی کے حوالے سے سامنے آنے والے حقائق نے واقعے کو مزید الجھا دیا ہے کہ آیا یہ اغوا کی واردات تھی یا محض ایک غلط فہمی۔تفصیلات کے مطابق 11 جنوری کو ایک شہری اپنے خاندان کے 14 بچوں کو سیر و تفریح کی غرض سے نارتھ ناظم آباد بلاک ایف میں واقع فتح پارک لے کر گیا تھا۔ اس دوران 3 سالہ انس اچانک لاپتہ ہو گیا، جس کے بعد اہل خانہ میں کہرام مچ گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔