وزیر خارجہ کا ایرانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260118-08-11
اسلام آباد (آن لائن) نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے ، جس میں ایران اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے ایران میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جانب سے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن و سلامتی باہمی مشاورت اور تعاون سے ہی ممکن ہے۔دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطے اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر پاکستان اور ایران کے درمیان موجود قریبی سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔رابطے کے دوران اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ دونوں ممالک خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔