ہنی سنگھ نے اپنے وائرل ہوئے غیر اخلاقی بیان کی وضاحت کردی
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
نامور بھارتی گلوکار و موسیقار یویو ہنی سنگھ نے سوشل میڈیا پر وائرل اپنے غیر اخلاقی بیان کے حوالے سے وضاحت جاری کردی۔
سوشل میڈیا پر بھارتی میوزک کمپوزر، ریپر، پاپ گلوکار یو یو ہنی سنگھ کا ایک کلپ تیزی سے وائرل ہورہا ہے جس میں وہ نئی دلی میں ایک میوزک کنسرٹ کے دوران شدید سردی سے متعلق ایک غیر اخلاقی بات کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
یو یو ہنی سنگھ کا کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی صارفین نے گلوکار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے بیان کو نہ صرف غیر اخلاقی قرار دیا بلکہ گلوکار سے معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا۔
بعد ازاں، گلوکار نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے اپنے بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ میری بات کا غلط مطلب نکالا گیا ہے۔
گلوکار نے ویڈیو بیان میں کہا کہ صبح سے میرا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر ایڈیٹ کرکے وائرل کیا جارہا ہے جو بہت سے لوگوں کو برا لگ رہا ہے، میں آپ لوگوں کو اس کی کہانی بتانا چاہتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے ایک شو میں بطور مہمان شرکت کی اور اس سے ایک روز قبل مختلف ڈاکٹرز سے میری ملاقات ہوئی تھی جس میں انہوں نے بتایا کہ آج کل کی نسل (جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماری) سے بہت سے متاثر ہورہی ہے۔
مزید کہا کہ شو کے دوران بھی میں نے جب جین زی کی بڑی تعداد دیکھی تو سوچا ان کو انہیں کی زبان میں مشورہ دے دوں، اور میں نے او ٹی ٹی کی زبان یعنی جو زبان انہیں فلموں اور ڈراموں میں پسند ہے، اسی زبان میں سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ اس حوالے سے احتیاط کریں۔
یو یو ہنی سنگھ کا کہنا تھا کہ جین زی کے لیے استعمال کردہ زبان کچھ لوگوں کو بہت بری لگی، میں ان سے اپنے بیان پر معافی مانگتا ہوں، میرا کسی کو ٹھیس پہنچانے کا کوئی مقصد نہیں تھا، انسان غلطیوں کا پتلا ہے اور میں کوشش کروں گا آج کے بعد ایسی زبان استعمال نہیں کروں۔
یاد رہے کہ ماضی میں ایک پروگرام کے دوران ہنی سنگھ نے ذہنی بیماری میں مبتلا ہونے کا انکشاف کیا تھا، ان کا کہان تھا کہ وہ ’بائی پولر ڈس آرڈر‘ کے ایک شدید کیس سے گزر چکے ہیں۔
انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے خود کو مردہ تصور کر لیا تھا اور وہ ذہنی مریض بن چکے تھے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سوشل میڈیا پر یو ہنی سنگھ غیر اخلاقی انہوں نے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔