گل پلازہ حادثہ ، کولنگ پراسیس میں 3 سے 4 دن لگ سکتے ہیں: چیف فائر آفیسر
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: چیف فائر آفیسر نے کہا ہے کہ ایم اے جناح روڈ پر گل پلازے میں آتشزدگی کا حادثہ بہت بڑا ہے، کولنگ پراسیس میں تین سے چار دن لگ سکتے ہیں۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے کہا کہ فائرفائٹنگ اورریسکیو کا عمل جاری ہے، پلازے میں تقریباً 2ہزارسے زائد دکانیں موجود ہیں، ہمیں رات10بجکر27منٹ پر آگ کی اطلاع ملی، پورے کراچی سے 14گاڑیاں،3اسنارکل اور2باؤزر یہاں پہنچے۔
ہمایوں خان نے واضح کیا کہ ہم نے آگ پر کافی حد تک قابو پالیا تھا، پھرز پلازے کا ایک حصہ اچانک منہدم ہوا جس میں ایک فائرفائٹر بھی ملبے تلے دب گیا ، کولنگ کے پراسیس میں 3سے4دن لگ سکتے ہیں، اطلاع ملنے کے بعد 2منٹ کے اندر آگ بجھانے والی گاڑی روانہ کرد ی جاتی ہے۔
فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی ضمانت منظور
انہوں نے واضح کیا کہ یہ حادثہ بڑا ہے، لہٰذا اس کو کنٹرول کرنے میں وقت لگے گا، یہ پورا شاپنگ پلازہ پونے دوایکڑ پر محیط ہے، ہمارا ایک فائرفائٹر لوگوں کو ریسکیو کرنے کیلئےاندرموجود تھا، ہمارے ایک فائرفائٹر نے لوگوں کو ریسکیو کرنے کے دوران جام شہادت نوش کیا۔
ہمایوں خان نے بتایا کہ آگ کی نوعیت دیکھ کر ہی اس کو تیسرے درجے کی ڈکلیئر کردیا تھا، ہم اپنے فائرفائٹر کو بھی ریکور کررہے ہیں، پوری رات آ گ کی مانیٹرنگ کرتے رہے، یہاں سے آدھے سے زیادہ لوگ چلے گئے، فائر بریگیڈ اب تک یہاں موجود ہے۔
کونسی سبزیاں کینسر سے بچاؤ میں مددگار ہیں
چیف فائر آفیسر نے کہا کہ کوشش ہے آگ کی آخری چنگاری کو ٹھنڈا کریں، آگ بجھانے کے بعد آڈٹ ہوگا اورتمام چیزیں سامنے آئیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: چیف فائر ا فیسر
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔