data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سائنس دانوں نے بالآخر انٹارکٹیکا کی برفانی سطح کے نیچے چھپی سرزمین کے رازوں سے پردہ اٹھا لیا ہے۔

ماہرین نے برف سے ڈھکے اس خطے کے بارے میں ایسی غیر معمولی تفصیلات پیش کی ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انٹارکٹیکا پر جمی موٹی برف کی تہہ عرصے سے سائنس دانوں کے لیے اس کے نیچے موجود جغرافیائی حقائق تک رسائی میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔

تاہم اب جدید نقشہ سازی کی انتہائی اعلیٰ تکنیکوں کی مدد سے — جن میں سیٹلائٹ ڈیٹا اور گلیشیئرز کی حرکت سے متعلق طبیعیاتی ماڈلز شامل ہیں — یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ انٹارکٹیکا میں برف کے نیچے آخر کیا موجود ہے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق، اس وسیع برفانی چادر کے نیچے ہزاروں پہاڑی چوٹیاں اور گہری وادیاں دفن ہیں۔

انکشاف ہونے والی معلومات میں بڑے پہاڑی سلسلوں کی واضح جغرافیائی ساخت، گہری اور تنگ گھاٹیاں، اور پھیلی ہوئی وسیع وادیاں شامل ہیں، جو اس برِاعظم کی پوشیدہ زمین کو ایک نئی شکل میں سامنے لاتی ہیں۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے نیچے

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین