پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کب ہوں گے؟ غیر یقینی صورتحال برقرار
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
سٹی42: پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے، کیونکہ تاحال انتخابات کا باقاعدہ شیڈول طے نہیں کیا جا سکا۔ ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مزید وقت مانگنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی بنیادی وجہ الیکشن رولز اور حلقہ بندیوں (ڈیمارکیشن) کا عمل مکمل نہ ہونا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حلقہ بندیاں نہ ہونے کے باعث بلدیاتی انتخابات کے مزید مؤخر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اسی تناظر میں الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت سے 22 جنوری کو جواب طلب کر لیا ہے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے کم از کم ایک ماہ کا اضافی وقت مانگنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
کراچی:گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد متعدد افراد تاحال لاپتا، اہل خانہ پریشان
ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے رولز پر بعض اعتراضات عائد کیے گئے تھے، تاہم فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق اعتراضات دور کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کا طریقہ کار واضح کر دیا گیا ہے جبکہ مخصوص نشستوں کے انتخابات کے طریقہ کار کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
الیکشن رولز کی سمری دوبارہ پنجاب حکومت کو بھجوا دی گئی ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ حلقہ بندیاں مکمل ہونے کے بعد ہی بلدیاتی انتخابات کا حتمی شیڈول جاری کیا جا سکے گا۔ آئینی طور پر حلقہ بندیاں کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، جس کے باعث دونوں اداروں کے درمیان مشاورت کا عمل جاری ہے۔
شوگر کے مریضوں کیلئےکم کیلوریز والی قدرتی شکر تیار
واضح رہے کہ پنجاب حکومت 22 جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہو کر بلدیاتی انتخابات کے لیے مزید ایک ماہ کی مہلت دینے کی باضابطہ استدعا کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 بلدیاتی انتخابات کے الیکشن کمیشن پنجاب حکومت
پڑھیں:
شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔
کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔