سدرہ عرب قتل کیس میں پیشرفت، نامزد اور روپوش ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
راولپنڈی میں جرگے کے حکم پر شادی شدہ خاتون سدرہ عرب کے قتل کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، مقدمے میں نامزد ایک اور روپوش ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق عدالت نے ملزم کو پہلے ہی اشتہاری قرار دیا تھا، گرفتار ملزم نے مقتولہ سدرہ عرب کی قبر کی رسید غائب کی تھی، ملزم سے تفتیش مکمل کرکے ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سدرہ عرب قتل کیس میں مجموعی طور پر 17 ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں، جس میں مقتولہ کا والد، چھ بھائی، چچا، جرگے کا سربراہ اور قبرستان کے عملے کے تین افراد شامل ہیں، کیس میں سابق شوہر، رکشہ لوڈر ڈرائیور، پڑوسی اور ایک کرایہ دار بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق سدرہ عرب کو گزشتہ سال 16 اور 17 جولائی کی درمیانی شب جرگے کے حکم پر گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا، ملزمان نے بغیر جنازہ پڑھے مقتولہ کی تدفین کی اور بعد ازاں قبر کے نشانات بھی مٹا دیے تھے۔
سدرہ عرب قتل کیس کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں تھانہ پیر ودھائی میں درج ہے، جبکہ جرگے کے سربراہ عصمت اللہ خان سمیت تمام ملزمان اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔