پشاور:

باجوڑ میں ارکان اسمبلی اور عمائدین پر مشتمل جرگے نے صوبے میں قیام امن کے لیے وزیراعلیٰ کے پی کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت ضلع باجوڑ کے پارلیمنٹیرینز، قومی مشران اور عمائدین پر مشتمل جرگے کا انعقاد ہوا۔

باجوڑ جرگے نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرادی۔ جرگے میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال، پاک افغان تعلقات کی بہتری اور ترقیاتی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے اس موقع پر باجوڑ میں حالیہ آپریشن میں جزوی متاثرہ گھروں کی تعمیر نو کے لیے رقم 1لاکھ 60 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کرنے کا اعلان کردیا۔

اجلاس میں شرکاء کی جانب سے مستقل قیام امن کے بارے میں تجاویز پیش کی گئیں۔ 

سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے قبائلی مشران، عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، 2018ء میں قربانیوں کی بدولت ملک میں مکمل امن قائم ہو چکا تھا، اب حالات کو جان بوجھ کر خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بند کمروں کے فیصلوں سے ہمیشہ حالات خراب ہوئے ہیں، امن و امان کے قیام کا مؤثر طریقہ قبائلی مشران اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے کر فیصلہ سازی ہے، ہم کسی بھی ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، امن و امان کے لیے باجوڑ کے عوام اور قبائلی مشران کا کردار قابلِ ستائش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فاٹا انضمام کے وقت 100 ارب روپے سالانہ کا وعدہ کیا گیا تھا، گزشتہ سات سال میں صرف 168 ارب روپے دیئے گئے، 532 ارب روپے وفاق کے ذمے بقایا ہیں، اے آئی پی کی مد میں وفاقی حکومت فنڈز نہیں دے رہی۔

وزیراعلیٰ نے ضم اضلاع کی مد میں پولیس میں بھرتیوں کے لیے عمر کی آخری حد بڑھانے کی ہدایت کردی۔ وزیراعلیٰ نے باجوڑ کے شہداء پیکیج پر کام تیز کرنے، امن کے قیام اور قومی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے قبائلی مشران کو سکیورٹی فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ضم اضلاع کے لیے روشن قبائل پیکیج میں موجود اسکولوں اور اسپتالوں کو بہتر بنایا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: قبائلی مشران امن کے کے لیے

پڑھیں:

کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار

کراچی:

ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔

فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن