گل پلازہ آتشزدگی: صدر مملکت، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کا اظہارِ افسوس، فوری امداد کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
کراچی:صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آتشزدگی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر صدر اور وزیراعظم نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
صدر مملکت آصف زرداری نے ہدایت کی ہے کہ سندھ حکومت اور متعلقہ ادارے متاثرہ افراد اور تاجروں کو فوری اور ہر ممکن امداد فراہم کریں،زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے اور متاثرین کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی گل پلازہ آتشزدگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ریسکیو آپریشن میں تمام محکمے باہمی تعاون سے کام کریں اور متاثرہ تاجروں و دیگر افراد کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے۔ وزیراعظم نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہونے کا اظہار کیا اور زخمیوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کے ساتھ ان کی جلد صحتیابی کی دعا بھی کی۔
دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔ محسن نقوی نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی اور کہا کہ تمام تر ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔
واضح رہے کہ کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں تیسرے درجے کی شدید آگ لگنے کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔ آگ کی شدت کے باعث پلازہ کے بعض حصے منہدم ہو گئے اور ریسکیو آپریشن انتہائی مشکل حالات میں جاری رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کا اظہار کیا گل پلازہ
پڑھیں:
سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
بابر شہزاد ترک :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری نظم و ضبط سے متعلق نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کر دی ۔
سرکلر کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقاتِ کار پر عمل درآمد لازم ہوگا۔
سرکلرکے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےبائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ افسران و اہلکاروں کو لاؤنج سوٹ یا شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلرکے مطابق دفتری راہداریوں میں شور اور بلند آواز میں گفتگو سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے احکامات پر عملدرآمد کیلئے باضابطہ سرکلر جاری کر دیاہے۔