اسلام آباد پولیس کی پتنگ اور کیمیکل ڈور کی فروخت کے خلاف کارروائی، 2 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
اسلام آباد پولیس نے پَتنگ اور خطرناک کیمیکل ڈور کی فروخت کے خلاف مؤثر اقدامات کرتے ہوئے تھانہ لوہی بھیر کے علاقے میں کارروائی کی، جس کے دوران افغان شہری سمیت 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں غیر قانونی پتنگ بازی کی مکمل ممانعت، محکمہ داخلہ کی ہدایات جاری
ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق پشاور سے گوجرانوالہ جانے والی بس سے بھاری مقدار میں پَتنگیں اور خطرناک کیمیکل ڈور برآمد کی گئی۔
ملزمان کے قبضے سے 472 مختلف اقسام کی کیمیکل ڈور اور 2700 سے زیادہ پتنگیں، چرخیاں اور دیگر سامان برآمد کیا گیا۔
ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا نے کہاکہ پَتنگ بازی صرف تفریح نہیں بلکہ ایک جان لیوا کھیل ہے، اور کیمیکل ڈور معصوم بچوں، موٹر سائیکل سواروں اور راہگیروں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو پتنگ بازی اور کیمیکل ڈور کے استعمال سے روکیں اور ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں پتنگ بازی پر عائد پابندی برقرار، ضلعی انتظامیہ کا شہریوں کو انتباہ
قاضی علی رضا نے مزید کہاکہ اسلام آباد پولیس شہریوں کے تعاون سے ہی محفوظ اور پُرامن شہر کی ضمانت دے سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسلام آباد پولیس پتنگ فروشی خطرناک کیمیکل ڈور کارروائی گرفتار وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد پولیس پتنگ فروشی کارروائی گرفتار وی نیوز کیمیکل ڈور
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔