کراچی میں 100 سے زائد بچوں سے جنسی زیادتی میں ملوث 2 ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
کراچی پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد بچوں سے جنسی زیادتی میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
رپورٹ کے مطابق ایس پی انویسٹی گیشن عثمان سدوزئی نے کہا کہ ہماری ٹیم نے متاثرہ بچےکی نشاندہی پر ٹیپوسلطان میں کارروائی کی، گرفتار ملزمان میں مرکزی ملزم عمران اور وقاص خان شامل ہیں، ملزمان 100 سے زائد بچوں سے زیادتی میں ملوث رہے جب کہ پولیس کو 2020 سے 2025 تک 7 شکایات رپورٹ ہوئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ مختلف اضلاع کے کیسز میں ڈی این اے ایک ہی شخص کا ملا تھا اور ہمیں 6 سال سے الگ کیسز میں ایک ہی ڈی این اے ملنے پر تفتیش ہوئی، ان تمام کیسز میں 12 سے 13 سال کے لڑکوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور ایک کیس میں بچے سے 2 سے زائد افراد نے زیادتی کی، درج شدہ تمام 7 مقدمات میں ملزم کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے۔
عثمان سدوزئی کا کہنا تھا کہ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے 6 جنوری کو ٹیم تشکیل دی تھی اور یہ ٹیم ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر کی سربراہی میں بنائی گئی تھی، اس ٹیم نے 11 روز کے اندر مطلوب ترین ملزمان کو گرفتار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزم عمران منظور کالونی کا رہائشی ہے اور پنکچر کا ٹھیا لگاتا ہے، اس کیس میں گرفتار مرکزی ملزم عمران نے 6 سال میں درجنوں بچوں سے زیادتی کا اعتراف کیا ہے۔
ان کے مطابق عمران نے تمام بچوں کو ملیرندی کے قریب لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا، وہ موٹرسائیکل کا بچوں کو لالچ دے کر ساتھ لے جاتا تھا۔
ایس پی نے مزید بتایا کہ تین کیسز میں بچوں نے ملزم عمران کو شناخت کرلیا ہے جب کہ ایک کیس میں بچے نے عمران اور ساتھی وقاص خان کو بھی پہچانا ہے، ملزم ایک بچے کو وقاص کے ساتھ سرجانی بھی لے گیا تھا جہاں بچے نے شور مچایا تو دونوں ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ چائلڈ ابیوز کیسز کسی صورت برداشت نہیں کرونگا۔
انہوں نے 100سے زیادہ بچوں سے زیادتی کے ملزم کی گرفتاری پر وزیراعلیٰ کی پولیس کو شاباش دی اور کہا کہ کراچی میں بچوں سے زیادتی کرنے والے ملزم کی گرفتاری بڑی کامیابی ہے، ابھی تک صرف 7 متاثرین سامنے آئے ہیں، پولیس باقی متاثرین کو تلاش کرے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ایڈیشنل آئی جی کو ہدایت دی کہ ملزم کے خلاف شواہد کی بنیاد پر کیس عدالت میں لے جایا جائے، مجھے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی پیش رفت رپورٹ دی جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کےلیے بچوں سے زیادتی ناقابل قبول ہے، بچوں کے تحفظ کےلیے حکومت سندھ نے کئی اقدامات کیے ہیں، پولیس ملزمان کو سزا دلوانے کےلیے بھرپور اقدامات کرے، شہر میں کسی درندے کی کوئی جگہ نہیں۔
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے بچوں کے ساتھ بدفعلی کے مقدمے میں گرفتار ملزم کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت کے روبرو بچوں کے ساتھ بدفعلی کرنے والا ملزم کو محمود آباد پولیس نے پیش کردیا۔
تفتیشی افسر نے کہا کہ مغوی بچے کے شور کرنے پر لوگوں نے ملزم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا, شک ہے کہ ملزم نے کئی بچوں کو بد فعلی کے بعد قتل کردیا ہو۔ ملزم عمران پر درجنوں بچوں کے ساتھ بدفعلی کرنے کا الزام ہے۔
ملزم سے مزید تفتیش کرنی ہے، متاثرہ بچوں کے بیانات ریکارڈ کرنے ہیں۔ ملزم کا 14 دن کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔
ملزم نے ابتدائی تفتیش میں درجنوں بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کا اعتراف کیا ہے۔
عدالت نے ملزم کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کو ٹیپو سلطان پولیس نے بچے کو اغوا کرنے کے جرم میں گرفتار کیا تھا۔
دوران تفتیش کئی متاثرہ بچوں نے ملزم کو نشاندہی کی ہے۔ ملزم کیخلاف محمود آباد، ٹیپو سلطان، کورنگی انڈسٹریل ایریا اور دیگر تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل بچوں سے زیادتی بچوں کے ساتھ کیسز میں پولیس کے ملزم کو کہا کہ
پڑھیں:
شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
( ملک رحمان)صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع شانگلہ میں ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ ضلع شانگلہ کی تحصیل الپورئی میں پیش آیا، جس میں گزشتہ رات مکان کی چھت اچانک ڈھہ گئی اور گھر میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے، واقعے میں ایک بچہ زخمی بھی ہو گیا ہے، جسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے تمام لاشیں اور زخمی بچی کو نکال لیا ہے، جاں بحق بچوں میں ناظرہ، سمیرا، رضوان، نایاب، حیا نور اور عمیرہ بی بی شامل ہیں، جن کی عمریں 5 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والد جہان بشر کا کچھ ہی عرصہ قبل انتقال ہوا تھا، اور ان کا مکان کچا تھا۔ مرنے والوں میں پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا شامل ہیں۔