کراچی کی 266بلند عمارتوں میں سے صرف 6 محفوظ قرار
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)شہر قائد میں آتشزدگی کے پے در پے واقعات نے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ایک حالیہ آڈٹ رپورٹ نے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شہر کی 3 اہم ترین شاہراہوں کی 266 عمارتوں میں سے صرف 6 عمارتوں میں فائر سیفٹی کی مکمل سہولیات موجود ہیں، جبکہ باقی تمام عمارتیں کسی بھی بڑے حادثے کی صورت میں انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آئی آئی چندریگر روڈ، شارع فیصل اور شاہراہ قائدین پر واقع عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ یکم جنوری 2024 کو مکمل کیا گیا تھا۔ انتہائی تشویشناک امر یہ ہے کہ 2026 کا آغاز ہونے کے باوجود اس رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد نہیں کروایا جا سکا، جس کے نتیجے میں گل پلازہ جیسے حادثات جنم لے رہے ہیں۔کے ایم سی کی رپورٹ کے مطابق شہر کی 70 فیصد عمارتوں میں بجلی کی وائرنگ غیر معیاری اور خطرناک حد تک بوسیدہ ہے۔ 62 فیصد عمارتوں میں آگ لگنے کی صورت میں باہر نکلنے کے لیے ‘ایمرجنسی ایگزٹ موجود ہی نہیں ہیں۔ 200 سے زاید عمارتوں میں آگ بجھانے والے بنیادی آلات تک موجود نہیں پائے گئے۔ 266 میں سے صرف 90 عمارتوں میں فائر الارم اور اسموک ڈٹیکٹر نصب تھے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فائر بریگیڈ حکام نے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو سہولیات فراہم کرنے کی سفارش کی تھی، لیکن انتظامیہ کی جانب سے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ اسی طرح سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) اور عمارتوں کے رہائشیوں کو بھی ضروری اقدامات کی ہدایت کی گئی تھی، مگر تاحال یہ ہدایات صرف کاغذوں تک محدود ہیں۔فائر سیفٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی کی شاہراہوں پر واقع یہ بلند و بالا عمارتیں نہ صرف کاروباری مراکز ہیں بلکہ یہاں روزانہ لاکھوں افراد کی آمد و رفت ہوتی ہے۔ غیر معیاری بجلی کی وائرنگ شارٹ سرکٹ کا سب سے بڑا سبب بنتی ہے، جبکہ ایمرجنسی ایگزٹ نہ ہونا اموات کی تعداد میں اضافے کی اصل وجہ بنتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عمارتوں میں
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.