data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260119-08-23
لندن /تہران /واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) لندن میں ایرانی سفارت خانے کے باہر احتجاج کرنے والے متعدد افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف پرتشدد ہنگامہ آرائی، ایمرجنسی اہلکار پر حملہ، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور سفارتی احاطے میں غیر قانونی داخلے کے الزامات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ سفارتخانے کی چھت پر لگے ایرانی پرچم کو اتارنے والے ایک شخص کو بھی گرفتار کیا گیا جس کے خلاف مجرمانہ نقصان پہنچانے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران پولیس پر مختلف اشیا پھینکی گئیں جس سے 4 اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے سفارتخانے سے ایرانی پرچم کو اتارنے والے شخص کی گرفتاری میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش بھی کی گئی جس کے بعد افسران نے صورتحال کو قابو میں رکھنے اور مزید بے امنی کو روکنے کے لیے سفارت خانے کے باہر سیکشن 35 کے تحت منتشر ہونے کا حکم نافذ کیا۔ علاوہ ازیں امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری سیکس نے ایران میں ہوئے حالیہ فسادات کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو ٹھہرا دیا۔ پروفیسر جیفری سیکس کا کہنا تھا کہ ایران میں ایک غیر معمولی، پْرتشدد اور سفاک کھیل جاری ہے، خریدا ہوا اور جانبدار مین اسٹریم امریکی میڈیا بتاتا ہے کہ ایرانی حکومت نے معیشت پر کنٹرول کھو دیا ، یہ نہیں بتایا جاتا کہ دراصل ایرانی معیشت کو تباہ کرنے والا ہی امریکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ کی طرح عوام سے جھوٹ بولا جاتا ہے کہ ایرانی حکومت اپنے عوام پر ظلم کر رہی ہے‘ امریکا اور اسرائیل کا اصل مقصد یہ ہے کہ ایرانی عوام کی زندگی کو جتنا ممکن ہو سکے بدتر بنائیں تاکہ ایران میں رجیم چینج کرائی جاسکے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای پر کوئی بھی حملہ مکمل جنگ کا سبب بن جائے گا۔اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایرانی عوام کی مشکلات کی وجہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی عائد غیر انسانی پابندیاں ہیں، سپریم لیڈر کے خلاف کوئی بھی جارحیت ایرانی قوم کے خلاف مکمل جنگ کے مترادف ہوگی۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہے کہ ایران کہ ایرانی کے خلاف

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار