سکھر،تجاوزات کیخلاف مزاحمت پر مقدمے کے اندراج کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت) تجاوزات کے خاتمے کیخلاف مزاحمت پر ایف آئی آر کے اندراج کا فیصلہ، سکھر میں تجاوزات کے خلاف ضلعی انتظامیہ کا بھرپور آپریشن، ہیوی مشینری کے ذریعے غیر قانونی تھڑے اور لینٹرز مسمار، سکھر میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ کا آپریشن مسلسل جاری ہے۔ دن کے اوقات کے ساتھ ساتھ اب رات گئے بھی کارروائیاں کی جا رہی ہیں، ضلعی انتظامیہ نے معروف شاہی بازار سمیت مختلف تجارتی علاقوں میں ہیوی مشینری کے ذریعے غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن کیا۔آپریشن کے دوران دکانوں کے آگے قائم غیر قانونی تھڑے، لینٹرز اور دیگر رکاوٹیں مسمار کی گئیں۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سکھر سارہ فراز، ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ میونسپل کارپوریشن بلاول کورائی، مختیارکار سکھر بابر بلو، میونسپل کارپوریشن کا عملہ اور پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ ضلعی انتظامیہ کے افسران نے موقع پر موجود رہ کر کارروائی کی نگرانی کی تاکہ آپریشن بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کیا جا سکے۔اسسٹنٹ کمشنر سارہ فراز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین اور قانون کے مطابق انتظامیہ کے پاس جرمانے، دکانیں سیل کرنے اور تجاوزات کا سامان ضبط کرنے جیسے متعدد اختیارات موجود ہیں، تاہم یہ تمام آپشنز آزمانے کے باوجود تاجر تجاوزات ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر سکھر کی ہدایات کے مطابق اب مزاحمت کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ تاجر تنظیموں سے پہلے ہی رابطہ کیا گیا تھا۔ دو روز قبل ایس ایم سی فورس نے تاجروں کو آپریشن کی بابت پیشگی آگاہ کیا تھا، بازار کے صدور کو فون کالز کے ذریعے بھی اطلاع دی گئی تھی، اس کے باوجود موقع پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ضلعی انتظامیہ تجاوزات کے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔