سکھر: آدم شاہ کالونی میں جمالی برادری کا پولیس اوربااثرافراد کیخلاف احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260119-05-13
سکھر (نمائندہ جسارت) آدم شاہ کالونی میں جمالی برادری کا پولیس اور بااثر افراد کے خلاف احتجاج، سکھر کی آدم شاہ کالونی کے رہائشی جمالی برادری سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے اپنے معصوم بچوں کے ہمراہ علاقے کے بااثر افراد اور سی سیکشن تھانے کے ایس ایچ او کے مبینہ ظلم و زیادتیوں اور ناانصافی کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔احتجاج میں شامل مائی مریم، عبدالرشید جمالی، جہانزیب جمالی، مائی مقصوداں، نصیر جمالی و دیگر کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات ان کی برادری کے بااثر افراد نے اچانک ان کے گھروں پر دھاوا بول دیا،جس کے نتیجے میں ان کے تین افراد شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کی رپورٹ درج کروانے کے لیے وہ اے سیکشن تھانے پہنچے، جہاں پولیس نے انہیں میڈیکل کروانے کے لیے سول اسپتال بھیج دیا۔مظاہرین کے مطابق جب وہ سول اسپتال پہنچے تو وہاں الادوں جمالی، اصغر جمالی، اللہ دتہ اور اس کے بیٹوں نے ان پر دوبارہ حملہ کر دیا اور زخمیوں کا میڈیکل پرچہ پھاڑ کر پھینک دیا۔ اسپتال میں موجود افراد نے مداخلت کر کے جھگڑا ختم کروایا اور انہیں گھروں کو واپس بھیج دیا۔احتجاج کرنے والوں نے الزام عائد کیا کہ وہ ابھی گھروں تک ہی پہنچے تھے کہ سی سیکشن تھانے کے ایس ایچ او پولیس اہلکاروں کے ہمراہ ان کے گھروں میں داخل ہو گئے اور چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھر میں موجود خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین کے مطابق پولیس نے ان کے بھائی علی جان جمالی، جو پہلے ہی دل کے مریض ہیں، کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقےنشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق
اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگاسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیلمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے