باجوڑ: حالیہ آپریشن میں جزوی متاثرہ گھروں کی تعمیر نو کیلئے رقم 5 لاکھ کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی : فائل فوٹو
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے باجوڑ میں حالیہ آپریشن میں جزوی متاثرہ گھروں کی تعمیر نو کے لیے رقم 1 لاکھ 60 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ کرنے کا اعلان کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت باجوڑ کے پارلیمنٹیرینز، قومی مشران اورعمائدین پر مشتمل جرگہ منعقد ہوا۔
باجوڑ جرگے نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں تعاون کی یقین دہانی کروائی، صوبے میں امن و امان کی صورتحال، ترقیاتی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
دہشتگرد پی ٹی آئی رہنما ریحان زیب، اے این پی کےمولانا خان زیب، ڈپٹی کمشنر ناوگئی اور جے یو آئی کے ارکان کے قتل میں بھی شامل تھا۔
صوبے میں امن و امان کی صورتحال، ترقیاتی حکمت عملی پر غور و خوص کیا گیا، شرکاء کی جانب سے مستقل امن کے قیام بارے تجاویز پیش کی گئیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے قبائلی مشران، عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، 2018 میں قربانیوں کی بدولت ملک میں مکمل امن قائم ہو چکا تھا، اب حالات کو جان بوجھ کر خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
آئی جی ذوالفقارحمید نے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کو خصوصی ٹیم باجوڑ بھجوانےکی ہدایت کی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ امن و امان کے قیام کا مؤثر طریقہ قبائلی مشران اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے کر فیصلہ سازی ہے، ہم کسی بھی ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، امن و امان کے لیے باجوڑ کے عوام اور قبائلی مشران کا کردار قابلِ ستائش ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ فاٹا انضمام کے وقت 100 ارب روپے سالانہ کا وعدہ کیا گیا تھا، گزشتہ 7 سالوں میں صرف 168 ارب روپے دیے گئے، 532 ارب روپے وفاق کے ذمے بقایا ہیں، اے آئی پی کی مد میں وفاقی حکومت فنڈز نہیں دے رہی۔
خیبر پختون خوا کے ضلع باجوڑ کے علاقے خار کے کرکٹ گراؤنڈ میں دھماکا ہوا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے ضم اضلاع میں پولیس میں بھرتیوں کےلیے عمر کی حد بڑھانے کی ہدایت کردی جبکہ باجوڑ کے شہداء پیکیج پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔
سہیل آفریدی نے امن کے قیام اور قومی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے قبائلی مشران کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضم اضلاع کے لیے روشن قبائل پیکیج میں موجود اسکولوں اور اسپتالوں کو بہتر بنایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا قبائلی مشران وزیر اعلی نے کہا کہ باجوڑ کے کی ہدایت کے قیام کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔