کرک؛ گھریلو ناچاقی پر اپنے ہی اہلخانہ پر فائرنگ، کمسن بچیوں اور خواتین سمیت 7 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
ڈی آئی خان:
کرک کے علاقے صابرآباد غنڈی میرخان خیل میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک شخص نے اپنے ہی اہل خانہ پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں کمسن بچیوں اور خواتین سمیت 7 افراد جاں بحق ہوگئے۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں میں ملزم کی اپنی بیوی، بیٹی، بہن، 2 بھائی اور انکی بیویاں شامل ہیں۔ موقع پر مقامی افراد، پولیس کی بھاری نفری اور ریسکیو ٹیم پہنچ گئی اور تمام لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال کرک منتقل کر دیں۔
ریسکیو1122 کے مطابق غنڈی میرخان خیل کرک میں فائرنگ کے واقعے میں 2 بچوں، 2 خواتین سمیت 7 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں 50 سالہ ظفر اللہ، 48 سالہ خورشید، 40 اور 30 سالہ 2 خواتین، 6 سال اور 3 ماہ کی 2 بچیاں شامل ہیں۔
مزید پڑھیںڈی آئی خان: نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے 2پولیس اہلکاروں کو شہید کردیا
پولیس کے مطابق گھریلو ناچاقی کے باعث ملزم فاروق عرف فاروقائے نے اپنے ہی گھر والوں پر فائرنگ کی جبکہ ملزم پولیس پر بھی مسلسل فائرنگ کر رہا تھا۔
ڈی پی او کرک سعود حان کے مطابق گھر میں فائرنگ کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔