ایران: مظاہروں کا پانسہ حکومت کے حق میں کیسے پلٹا؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آپ نے دیکھا ہوگا پانی میں پتھر پھینکنے پر کیا ہوتا ہے؟ سطح پر چند دائرے نمودار ہوتے ہیں، پھیلتے ہیں اور پھر آہستہ اہستہ مٹ جاتے ہیں۔ پتھر ڈوب جاتا ہے اور پانی پھر پہلے ہی کی طرح پرسکون ہوجاتا ہے۔ چند دنوں کے تلاطم کے بعد ایران میں ایسا ہی کچھ ہوا ہے۔ احتجاج میں بیرونی قوتوں کے ٹوٹ پڑنے سے ان کے تشدد اور ہنگاموںمیں اضافہ نہیں ہوا، وہ بیرونی قوتوں امریکا اور اسرائیل کے خلاف یکجا ہوگئے ہیں۔ غیر ملکی قوتیں ایران میں پھلیں پھولیں اور ان کے خواب بہہ جا ئیں۔ وہ اس کے لیے تیا رنہیں۔ آج، کل، نہ پھر کبھی۔
پچھلے مہینے 28 دسمبر 2025 کو تہران کے گرینڈ بازار میں دکانداروں نے ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی گراوٹ اور مہنگائی کے خلاف اپنی دکا نیں بند کرکے ایران کے طول وعرض میں پھیل جانے والے ہنگاموں کا آغاز کیا۔ ابتدائی طور پر یہ ہنگامے معاشی مسائل جیسے بڑھتی ہوئی بے روزگاری، گھٹن، ایندھن اور روزمرہ کی اشیاء کی مہنگائی پر تھے۔ چند دنوں کے اندر اندر تبریز، اصفہان اور مشہد ’’موت بر مہنگائی‘‘ کی زد پر آگئے۔ جنوری کے آغاز میں مظاہرے مزید شدت اختیار کرتے ہوئے 46 شہروں میں پھیل گئے۔ حکومتی کریک ڈائون، انٹرنیٹ بلیک آئوٹ اور حکومتی فورسز کی کارروائیوں سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے لگی جسے متعصب مغربی میڈیا نے اسرائیل اور امریکی انحصاریت کی بنا پر حد درجے مبالغے سے پیش کیا۔
اس مرحلے پر مظاہروں میں بندوق بردار شرپسندوں کے سرایت کرنے، مساجد، ایمبولینسوں اور حکومتی عمارتوں کو جلانے، صدر ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل میڈیا پر مظاہرین کے حق میں بیانات، فوجی تیاریوں اور ایران پر حملے کے ارادوں نے مظاہرین کے اذہان اور ارادوں کو پلٹ دیا۔ مظاہرے بیرونی مداخلت کے خلاف اور ایرانی حکومت کے حق میں تبدیل ہوگئے۔ 12 جنوری 2026 کو ملک بھر میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ انقلاب اسلامی اور اپنی حکومت کے حق میں نعرے بلند کرتے ہوئے شاہراہوں پر آگئے۔ ان کا پیغام واضح ہے کہ ہمیں دھمکیوں کے ذریعے یا مشکلات کھڑی کرکے ہرایا نہیں جاسکتا۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ایرانی غیرت پر حملہ کیا ہے۔ اہل ایران ٹرمپ اور نیتن یاہو سے پھر ایک جنگ لڑنے کے لیے اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ایران میں رونما ہونے والے ان مناظر کی تفہیم کے لیے ہمیں 1979 کے انقلاب کو یاد رکھنا اور سمجھنا ہوگا۔ اس وقت شہنشاہ ایران کے خلاف عوام میں جو یکجہتی تھی 2026 میں وہ سوچ محو ہی نہیں ناپید ہے۔ 46 برس پہلے کا یہ انقلاب تین طاقتوں کے اتحاد کا نتیجہ تھا: اوّل عوام جنہوں نے متحد ہوکر حتمی طور پر یہ طے کرلیا تھا کہ ہمیں انقلاب لانا ہے۔ شہنشاہ کی آمریت ہمارا مقدر نہیں ہے۔ ہمیں اس سے نجات حاصل کرنا ہے۔ دوم مذہبی رہنما جو دہائیوں سے ترتیب دیے ہوئے شہنشاہ کے نظام کے خلاف دہائیوں سے ہی واضح نظریات رکھتے تھے اور اس کے خلاف سرگرم ہونے اور عوام کو متحرک اور منظم کرنے کے لیے پوری طرح تیار تھے۔ سوم بازاروں کے بڑے تاجر اور دکاندارجنہوں نے اپنی دکانیں بند کرکے ملکی معیشت کو معطل کردیا تھا۔ یہ وہ عوامل تھے جنہوں نے 1979 میں یک جان ہوکر انقلاب میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ طاقت کے اور بھی ستون تھے جو ان دنوں متحرک تھے لیکن مرکزی طاقت ان ہی تین ستونوں کی یکجائی تھی جس سے شہنشاہیت کے محلات زمین بوس ہوگئے۔ ایک اندازے کے مطابق 60 ہزار سے زائد افراد اس انقلاب کی نذر ہو گئے تھے۔
آج 2026 میں انقلاب کو متشکل کرنے کے لیے یہ تینوں قوتیں متحد نہیں ہیں۔ سب سے پہلے بازار کا ذکر کرتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے بڑے شہروں کی طرح ایران کے شہروں کی زندگی بھی بازاروں پر مرکوز ہے۔ ایران کے بازار صرف خرید وفروخت کی جگہ نہیں تھے بلکہ ماضی میں ایک معاشی طاقت ہوا کرتے تھے۔ بازار حکومتوں سے ناراض ہوتے تھے تو حکومتیں لرز جاتی تھیں۔ لیکن آج ایران کے بازار وہ طاقت نہیں ہیں۔ گزشتہ بیس برسوں میں امریکا اور یورپی ممالک کی سخت معاشی پابندیوں نے ایران کے بازاروں کی شکل اور ہیئت بدل دی ہے۔ انقلاب کے بعد سیکورٹی ایجنسیوں جیسے پاسداران انقلاب نے معیشت کے بہت سے شعبوں، سرگرمیوں اور بازاروں پر اپنا قبضہ مستحکم کرلیا ہے۔ اکثر تاجر پابندیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے پاسداران کے حق میں کاروباری سرگرمیوں سے دستبردار ہوگئے ہیں۔ خاص طور پر کرنسی کے لین دین اور درآمد ہونے والی دیگر منافع بخش چیزوں پر پاسداران کا کنٹرول بڑھ گیا۔ ڈالر کی کمی نے ڈالر کے لین دین کوحکومت کی تحویل میں دے دیا ہے۔ پرانے روایتی خاندان جو تجارت پر چھائے ہوئے تھے اب فوج کے ساتھ کاروباری شراکت پر مجبور ہیں جن کے بغیر وہ اپنا کاروبار نہیں چلا سکتے۔ اب بازار اور تاجر 1979 والی معاشی طاقت نہیں ہیں جو نظام کو ہلاسکیں۔
اب آئیے مذ ہبی رہنمائوں کی طرف۔ 1979 میں جب بہت بڑی تعداد میں علماء نے آیت اللہ خمینی کی قیادت میں شہنشاہیت کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ یہ وہ روایتی علماء نہیں تھے جو اپنے حجروں عبادت گاہوں اور حوزوں (مذہبی تعلیمی اداروں) تک محدود ہوں بلکہ وہ سیاسی سماجی اور انقلابی عمل میں براہ راست شریک تھے۔ ایران کی تاریخ میں علماء کا کردار ہمیشہ سامراج مخالف یا اینٹی امپریل رہا ہے۔ آج 2026 میں ایران کے علماء یکجا اور متحد نہیں ہیں۔ ان کے درمیان گہرے اختلافات ہیں۔ کچھ مذہبی رہنما نظام میں اصلاحات چاہتے ہیں تو کچھ نظام کو مزید سخت بنانا چاہتے ہیں۔ جب کہ بہت سے روایتی علماء ہیں جو عبادت گاہوں اور تعلیمی اداروں تک محدود ہیں۔ یہ علماء اس قابل نہیں ہیں کہ کسی کو ہٹا سکیں یا کسی کو لاسکیں۔ علماء کی وہ یکجہتی جو 1979 کے انقلاب کی کنجی تھی آج دور دور تک موجود نہیں ہے۔
اب آئیے سب سے اہم ستون فوج اور سیکورٹی اداروں کی طرف۔ کوئی بھی انقلاب اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک اسٹیبلشمنٹ میں دراڑ نہ پڑجائے۔ 79 میں یہی ہوا تھا جب فوجی دستوں نے شہنشاہ کا حکم ماننے سے انکار کردیا تھا اور نظام گرگیا تھا۔ آج ایران کی فوج اور پاسداران انقلاب اور رضاکار عوامی فوج (بسیج مستضعفین) نہ صرف متحد ہیں بلکہ پوری اسٹیبلشمنٹ حکومت کے ساتھ مربوط طریقے سے کھڑی ہوئی ہے ان کا پورا وجود، ان کے بینک، ان کے کاروباری ادارے موجودہ نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر نظام گرتا ہے تو ان کا سارا کاروبار ساری طاقت خطرے میں پڑجائے گی۔ وہ اس نظام کو بچانے کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ صرف ملازمت نہیں کررہے نظریاتی اور مالی طور پر اس نظام کے محافظ ہیں۔
اب آئیے بیرونی عوامل یعنی امریکا اور اسرائیل کی طرف۔ یہ دونوں ممالک ایران پر پابندیاں لگاتے ہیں، فوجی کارروائیوں کی نہ صرف دھمکیاں دیتے ہیں بلکہ ایران پر حملے بھی کرچکے ہیں۔ لاتعداد انٹیلی جنس کارروائیاں الگ ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان کارروائیوں سے ایرانی حکومت اس حدتک کمزور ہوسکتی ہے کہ رجیم چینج کا مرحلہ آجائے لیکن درحقیقت ان کی کارروائیوں کا ردعمل ان کی توقعات کے بالکل برعکس ہے۔ ان کی کارروائیاں ایرانی حکومت کو مضبوط کرتی ہیں۔ ان ممالک کی سخت پابندیوں کا نقصان براہ راست عوام کو ہوتا ہے۔ حکومت ان تکالیف کو عوام کو یہ کہہ کر باور کراتی ہے کہ دیکھو ہمارے دشمن ہمیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں متحد رہنا ہوگا۔ پھر یہ دھمکیاں ایرانی قوم پرستی کو بھی ازحد توانا اور مضبوط کردیتی ہیں۔ جس کے بعد ایرانی عوام ایران کی خود مختاری کی پامالی کسی صورت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایران میں تبدیلی امریکا اسرائیل یا باہر کی مداخلت سے نہیں، صرف ایک ذریعے سے آسکتی ہے، خود ایران کے اندر سے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کرنے کے لیے ایران میں کے حق میں ایران کے حکومت کے نہیں ہیں
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔