Jasarat News:
2026-07-24@02:38:56 GMT

ایران: مظاہروں کا پانسہ حکومت کے حق میں کیسے پلٹا؟

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

آپ نے دیکھا ہوگا پانی میں پتھر پھینکنے پر کیا ہوتا ہے؟ سطح پر چند دائرے نمودار ہوتے ہیں، پھیلتے ہیں اور پھر آہستہ اہستہ مٹ جاتے ہیں۔ پتھر ڈوب جاتا ہے اور پانی پھر پہلے ہی کی طرح پرسکون ہوجاتا ہے۔ چند دنوں کے تلاطم کے بعد ایران میں ایسا ہی کچھ ہوا ہے۔ احتجاج میں بیرونی قوتوں کے ٹوٹ پڑنے سے ان کے تشدد اور ہنگاموںمیں اضافہ نہیں ہوا، وہ بیرونی قوتوں امریکا اور اسرائیل کے خلاف یکجا ہوگئے ہیں۔ غیر ملکی قوتیں ایران میں پھلیں پھولیں اور ان کے خواب بہہ جا ئیں۔ وہ اس کے لیے تیا رنہیں۔ آج، کل، نہ پھر کبھی۔

پچھلے مہینے 28 دسمبر 2025 کو تہران کے گرینڈ بازار میں دکانداروں نے ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی گراوٹ اور مہنگائی کے خلاف اپنی دکا نیں بند کرکے ایران کے طول وعرض میں پھیل جانے والے ہنگاموں کا آغاز کیا۔ ابتدائی طور پر یہ ہنگامے معاشی مسائل جیسے بڑھتی ہوئی بے روزگاری، گھٹن، ایندھن اور روزمرہ کی اشیاء کی مہنگائی پر تھے۔ چند دنوں کے اندر اندر تبریز، اصفہان اور مشہد ’’موت بر مہنگائی‘‘ کی زد پر آگئے۔ جنوری کے آغاز میں مظاہرے مزید شدت اختیار کرتے ہوئے 46 شہروں میں پھیل گئے۔ حکومتی کریک ڈائون، انٹرنیٹ بلیک آئوٹ اور حکومتی فورسز کی کارروائیوں سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے لگی جسے متعصب مغربی میڈیا نے اسرائیل اور امریکی انحصاریت کی بنا پر حد درجے مبالغے سے پیش کیا۔

اس مرحلے پر مظاہروں میں بندوق بردار شرپسندوں کے سرایت کرنے، مساجد، ایمبولینسوں اور حکومتی عمارتوں کو جلانے، صدر ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل میڈیا پر مظاہرین کے حق میں بیانات، فوجی تیاریوں اور ایران پر حملے کے ارادوں نے مظاہرین کے اذہان اور ارادوں کو پلٹ دیا۔ مظاہرے بیرونی مداخلت کے خلاف اور ایرانی حکومت کے حق میں تبدیل ہوگئے۔ 12 جنوری 2026 کو ملک بھر میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ انقلاب اسلامی اور اپنی حکومت کے حق میں نعرے بلند کرتے ہوئے شاہراہوں پر آگئے۔ ان کا پیغام واضح ہے کہ ہمیں دھمکیوں کے ذریعے یا مشکلات کھڑی کرکے ہرایا نہیں جاسکتا۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ایرانی غیرت پر حملہ کیا ہے۔ اہل ایران ٹرمپ اور نیتن یاہو سے پھر ایک جنگ لڑنے کے لیے اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ایران میں رونما ہونے والے ان مناظر کی تفہیم کے لیے ہمیں 1979 کے انقلاب کو یاد رکھنا اور سمجھنا ہوگا۔ اس وقت شہنشاہ ایران کے خلاف عوام میں جو یکجہتی تھی 2026 میں وہ سوچ محو ہی نہیں ناپید ہے۔ 46 برس پہلے کا یہ انقلاب تین طاقتوں کے اتحاد کا نتیجہ تھا: اوّل عوام جنہوں نے متحد ہوکر حتمی طور پر یہ طے کرلیا تھا کہ ہمیں انقلاب لانا ہے۔ شہنشاہ کی آمریت ہمارا مقدر نہیں ہے۔ ہمیں اس سے نجات حاصل کرنا ہے۔ دوم مذہبی رہنما جو دہائیوں سے ترتیب دیے ہوئے شہنشاہ کے نظام کے خلاف دہائیوں سے ہی واضح نظریات رکھتے تھے اور اس کے خلاف سرگرم ہونے اور عوام کو متحرک اور منظم کرنے کے لیے پوری طرح تیار تھے۔ سوم بازاروں کے بڑے تاجر اور دکاندارجنہوں نے اپنی دکانیں بند کرکے ملکی معیشت کو معطل کردیا تھا۔ یہ وہ عوامل تھے جنہوں نے 1979 میں یک جان ہوکر انقلاب میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ طاقت کے اور بھی ستون تھے جو ان دنوں متحرک تھے لیکن مرکزی طاقت ان ہی تین ستونوں کی یکجائی تھی جس سے شہنشاہیت کے محلات زمین بوس ہوگئے۔ ایک اندازے کے مطابق 60 ہزار سے زائد افراد اس انقلاب کی نذر ہو گئے تھے۔

آج 2026 میں انقلاب کو متشکل کرنے کے لیے یہ تینوں قوتیں متحد نہیں ہیں۔ سب سے پہلے بازار کا ذکر کرتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے بڑے شہروں کی طرح ایران کے شہروں کی زندگی بھی بازاروں پر مرکوز ہے۔ ایران کے بازار صرف خرید وفروخت کی جگہ نہیں تھے بلکہ ماضی میں ایک معاشی طاقت ہوا کرتے تھے۔ بازار حکومتوں سے ناراض ہوتے تھے تو حکومتیں لرز جاتی تھیں۔ لیکن آج ایران کے بازار وہ طاقت نہیں ہیں۔ گزشتہ بیس برسوں میں امریکا اور یورپی ممالک کی سخت معاشی پابندیوں نے ایران کے بازاروں کی شکل اور ہیئت بدل دی ہے۔ انقلاب کے بعد سیکورٹی ایجنسیوں جیسے پاسداران انقلاب نے معیشت کے بہت سے شعبوں، سرگرمیوں اور بازاروں پر اپنا قبضہ مستحکم کرلیا ہے۔ اکثر تاجر پابندیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے پاسداران کے حق میں کاروباری سرگرمیوں سے دستبردار ہوگئے ہیں۔ خاص طور پر کرنسی کے لین دین اور درآمد ہونے والی دیگر منافع بخش چیزوں پر پاسداران کا کنٹرول بڑھ گیا۔ ڈالر کی کمی نے ڈالر کے لین دین کوحکومت کی تحویل میں دے دیا ہے۔ پرانے روایتی خاندان جو تجارت پر چھائے ہوئے تھے اب فوج کے ساتھ کاروباری شراکت پر مجبور ہیں جن کے بغیر وہ اپنا کاروبار نہیں چلا سکتے۔ اب بازار اور تاجر 1979 والی معاشی طاقت نہیں ہیں جو نظام کو ہلاسکیں۔

اب آئیے مذ ہبی رہنمائوں کی طرف۔ 1979 میں جب بہت بڑی تعداد میں علماء نے آیت اللہ خمینی کی قیادت میں شہنشاہیت کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ یہ وہ روایتی علماء نہیں تھے جو اپنے حجروں عبادت گاہوں اور حوزوں (مذہبی تعلیمی اداروں) تک محدود ہوں بلکہ وہ سیاسی سماجی اور انقلابی عمل میں براہ راست شریک تھے۔ ایران کی تاریخ میں علماء کا کردار ہمیشہ سامراج مخالف یا اینٹی امپریل رہا ہے۔ آج 2026 میں ایران کے علماء یکجا اور متحد نہیں ہیں۔ ان کے درمیان گہرے اختلافات ہیں۔ کچھ مذہبی رہنما نظام میں اصلاحات چاہتے ہیں تو کچھ نظام کو مزید سخت بنانا چاہتے ہیں۔ جب کہ بہت سے روایتی علماء ہیں جو عبادت گاہوں اور تعلیمی اداروں تک محدود ہیں۔ یہ علماء اس قابل نہیں ہیں کہ کسی کو ہٹا سکیں یا کسی کو لاسکیں۔ علماء کی وہ یکجہتی جو 1979 کے انقلاب کی کنجی تھی آج دور دور تک موجود نہیں ہے۔

اب آئیے سب سے اہم ستون فوج اور سیکورٹی اداروں کی طرف۔ کوئی بھی انقلاب اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک اسٹیبلشمنٹ میں دراڑ نہ پڑجائے۔ 79 میں یہی ہوا تھا جب فوجی دستوں نے شہنشاہ کا حکم ماننے سے انکار کردیا تھا اور نظام گرگیا تھا۔ آج ایران کی فوج اور پاسداران انقلاب اور رضاکار عوامی فوج (بسیج مستضعفین) نہ صرف متحد ہیں بلکہ پوری اسٹیبلشمنٹ حکومت کے ساتھ مربوط طریقے سے کھڑی ہوئی ہے ان کا پورا وجود، ان کے بینک، ان کے کاروباری ادارے موجودہ نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر نظام گرتا ہے تو ان کا سارا کاروبار ساری طاقت خطرے میں پڑجائے گی۔ وہ اس نظام کو بچانے کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ صرف ملازمت نہیں کررہے نظریاتی اور مالی طور پر اس نظام کے محافظ ہیں۔

اب آئیے بیرونی عوامل یعنی امریکا اور اسرائیل کی طرف۔ یہ دونوں ممالک ایران پر پابندیاں لگاتے ہیں، فوجی کارروائیوں کی نہ صرف دھمکیاں دیتے ہیں بلکہ ایران پر حملے بھی کرچکے ہیں۔ لاتعداد انٹیلی جنس کارروائیاں الگ ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان کارروائیوں سے ایرانی حکومت اس حدتک کمزور ہوسکتی ہے کہ رجیم چینج کا مرحلہ آجائے لیکن درحقیقت ان کی کارروائیوں کا ردعمل ان کی توقعات کے بالکل برعکس ہے۔ ان کی کارروائیاں ایرانی حکومت کو مضبوط کرتی ہیں۔ ان ممالک کی سخت پابندیوں کا نقصان براہ راست عوام کو ہوتا ہے۔ حکومت ان تکالیف کو عوام کو یہ کہہ کر باور کراتی ہے کہ دیکھو ہمارے دشمن ہمیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں متحد رہنا ہوگا۔ پھر یہ دھمکیاں ایرانی قوم پرستی کو بھی ازحد توانا اور مضبوط کردیتی ہیں۔ جس کے بعد ایرانی عوام ایران کی خود مختاری کی پامالی کسی صورت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایران میں تبدیلی امریکا اسرائیل یا باہر کی مداخلت سے نہیں، صرف ایک ذریعے سے آسکتی ہے، خود ایران کے اندر سے۔

بابا الف سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کرنے کے لیے ایران میں کے حق میں ایران کے حکومت کے نہیں ہیں

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران