data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کشمیر میں خزاں کا اپنا ایک علٰیحدہ رنگ ہے، جب چنار کے زرد اور لہو رنگ پتے وادی کی زمین کو رنگ دیتے ہیں ڈل جھیل ہو یا نسیم باغ یا کشمیر کا شالامار باغ جس کو جہانگیر نے 1619 میں اپنی ملکہ نور جہاں کے لیے لگوایا تھا ان سارے باغوں میں چنار کے درخت سارا سال اپنی بہار دکھاتے رہتے ہیں لیکن اس موسم میں ان کا رنگ انوکھا ہوتا ہے جیسے خزاں کے موسم میں وہ عروسی لباس زیب تن کر لیتے ہیں۔ نور جہاں کے لیے جہانگیر نے کافی باغ اور محلات بنوائے لیکن وہ باغ جس میں اس کی آخری ارام گاہ ہے وہ لاہور میں راوی کے کنارے واقع ہے۔
ہم نے لاہور میں نور جہاں کا وہ مقبرہ دیکھا نور جہاں کی اصل قبر بھی دیکھی جہاں چھت پر لگے کنڈوں کے نشان بھی ہیں جن سے نور جہاں کے تابوت کو چھت پر لٹکایا گیا تھا کیونکہ نور جہاں کی وصیت تھی کہ اسے زمین میں دفن نہ کیا جائے لہٰذا اس کے مقبرے کی تہ خانے کی چھت پر اس کے تابوت کو لٹکا دیا گیا تھا جس طرح اس کی وصیت تھی لیکن سکھ دور میں اس مقبرے کو لوٹ مار کا نشانہ بنایا گیا تابوت کو اُتار کر اس پر لگے ہیرے جواہرات لٹیروں نے لوٹ لیے بعد میں ملکہ کے تابوت کو عین اسی جگہ جہاں لٹکایا گیا تھا زمین میں دفن کر دیا اب زمین پر ایک سلائیڈنگ دروازہ لگا ہوا تھا سامنے سیڑھیاں تھیں ہم نے نیچے اُتر کر نورجہاں کی اصلی قبر بھی دیکھی اور فاتحہ پڑھی اور چھت پر لگے کنڈوں کے نشانات بھی جن سے نور جہاں کے تابوت کو چھت پر لٹکایا گیا تھا۔ کیا مقام عبرت تھا وہ جو ہندوستان کے شہنشاہ کی چہیتی ملکہ تھی آج اپنے مقبرے میں بے نشان تھی نشاندہی کے لیے چار گھونٹوں میں رسی کا گھیرا تھا۔ نور جہاں بہت اچھی شاعرہ تھی اوپر مزار کی لوح پر جو اشعار لکھے تھے۔
بر مزار ما غریباں، نے چراغِ نے گلے
نے پر پروانہ سوزد، نے صدائے بلبلے
ٹھیک یہی حال تھا نور جہاں کے مقبرے کا کشمیر کے موسموں کا ذکر کرتے کرتے نورجہاں کے مقبرے کی یاد آگئی بات تو کشمیر کی بیٹی کی کرنی ہے جو آج کئی عشروں سے بھارت کی تہاڑ جیل میں قید ہے نور جہاں سے آسیہ اندرابی کی کوئی مماثلت نہیں سوائے اس کے کہ نور جہاں ہندوستان کے شہنشاہ کے دل میں بستی تھی اور آسیہ اندرابی کشمیری خواتین کے دل میں بستی ہیں، ساتھ وہ ان کے لیے رول ماڈل بھی ہیں۔ آج کٹ پتلی بھارتی عدالت نے حریت رہنما آسیہ اندرابی کو مجرم قرار دے دیا اور ان کو سزائیں سنانے کا فیصلہ کیا ان کا یہ مقدمہ بھارت کی انویسٹی گیشن ایجنسی کی عدالت میں چلایا گیا۔
آسیہ اندرابی کشمیری خواتین کی تنظیم دختران ملت کی بانی ہیں یہ تنظیم کشمیر کی بھارت سے علٰیحدگی کے لیے کام کرنے والی آل پارٹیز حریت کانفرنس کا حصہ ہے، جس کا مقصد کشمیر کی بھارت سے علٰیحدگی ہے۔ آسیہ اندرابی کشمیری حریت پسند خواتین میں بہت اہم نام ہے ان کو قریب سے جاننے والے انہیں آئرن لیڈی کہتے ہیں۔ آسیہ اندرابی نے جس گھرانے میں پرورش پائی وہاں کی خواتین پہلے ہی اسلامی جدوجہد میں پیش پیش تھیں، ان کی خالہ نے 1960 کی دہائی میں جہیز کے خلاف بیداری مہم چلائی تھی اور خواتین پر ہی مشتمل ایک میرج کمیٹی قائم کی تھی۔ 1980 کے شروع میں آسیہ اپنے خاندانی ماحول سے متاثر ہو کر ایک مدرسہ تعلیم القران قائم کر چکی تھیں جہاں وہ لڑکیوں کو قرآن، حدیث، عربی زبان اور تجوید کی تعلیم دیتی تھیں بعد میں اس مدرسے نے خواتین کی مذہبی اصلاحی تنظیم دخترانِ ملت کی شکل اختیار کر لی ان کی تنظیم دخترانِ ملت نے سری نگر کے سینما گھروں میں بالی وڈ اور ہالی وڈ فلموں کی نمائش کے خلاف باقاعدہ مہم شروع کر دی تھی۔
1987 میں آسیہ کی قیادت میں سیکڑوں برقع پوش خواتین لڑکیاں ہاتھوں میں برش اور سیاہی کی بالٹیاں لیے بازاروں میں ہالی وڈ فلموں کے پوسٹوں کو سیاہ کرتی نظر آتی تھیں ان کے مطابق اس مہم کا مقصد فحاشی کو روکنا تھا اس مہم میں بڑی تعداد میں کالج یونیورسٹی میں زیر تعلیم لڑکیاں آسیہ اندرابی کے نظریات سے متاثر ہو کر دخترانِ ملک کے ساتھ وابستہ ہو گئیں اور تنظیم نے کئی علاقوں میں اپنی درس گاہیں قائم کر لیں۔ ان کی تنظیم نے شراب نوشی اور قمار بازی کے خلاف بھی مہم چلائی ان سے وابستہ برقع پوش خواتین اکثر فوجی زیادتیوں کے خلاف بھی احتجاج کیا کرتی تھیں۔ وہ پاکستان کی بہت زیادہ حامی ہیں اور کشمیر کو پاکستان کا فطری حصہ قرار دیتی ہیں۔ کشمیری تحریک مزاحمت کے پاکستان نواز حلقے کی حمایت کرتی ہیں انہوں نے کئی مواقع پر پاکستانی پرچم لہرایا اس زمانے میں جب ان کی شادی کے بات چھڑی تو انہوں نے اپنے خاندان والوں سے صاف کہہ دیا کہ وہ صرف شادی کریں گی تو مجاہد سے چنانچہ ان کی شادی سری نگر کے عاشق حسین فتکو سے کی گئی وہ اس زمانے میں مسلح تنظیم جمعیت المجاہدین کے ترجمان تھے اور قاسم کے نام سے معروف تھے شادی کے دو سال بعد ہی فتکو اپنی اہلیہ آسیہ اندرابی اور چھے ماہ کے بیٹے محمد بن قاسم سمیت گرفتار ہو گئے اگرچہ فتکو کو ماتحت عدالتوں نے الزامات سے بری کر دیا لیکن چند ماہ بعد ہی انہیں دوبارہ گرفتار کر گیا اور 2003 میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔ آج وہ لگ بھگ 27 سال سے قید میں ہیں اور کشمیر کے آزادی پسند حلقوں میں نیلسن منڈیلا آف کشمیر کے نام سے معروف ہیں، انہوں نے دوران قید اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور مختلف اسلامی موضوعات پر کتابیں تصنیف کیں جن میں سے نصف درجن کتابیں انگریزی زبان میں ہیں۔ آج سوال یہ ہے کہ پاکستان آسیہ اندرابی دختر کشمیر کو مجرم قرار دینے پر کیا اور کیسے ردعمل دیتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا سیہ اندرابی نور جہاں کے کے تابوت کو کشمیر کی گیا تھا کے خلاف چھت پر کے لیے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔