Jasarat News:
2026-07-24@03:23:13 GMT

کشمیر کی آئرن لیڈی

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کشمیر میں خزاں کا اپنا ایک علٰیحدہ رنگ ہے، جب چنار کے زرد اور لہو رنگ پتے وادی کی زمین کو رنگ دیتے ہیں ڈل جھیل ہو یا نسیم باغ یا کشمیر کا شالامار باغ جس کو جہانگیر نے 1619 میں اپنی ملکہ نور جہاں کے لیے لگوایا تھا ان سارے باغوں میں چنار کے درخت سارا سال اپنی بہار دکھاتے رہتے ہیں لیکن اس موسم میں ان کا رنگ انوکھا ہوتا ہے جیسے خزاں کے موسم میں وہ عروسی لباس زیب تن کر لیتے ہیں۔ نور جہاں کے لیے جہانگیر نے کافی باغ اور محلات بنوائے لیکن وہ باغ جس میں اس کی آخری ارام گاہ ہے وہ لاہور میں راوی کے کنارے واقع ہے۔

ہم نے لاہور میں نور جہاں کا وہ مقبرہ دیکھا نور جہاں کی اصل قبر بھی دیکھی جہاں چھت پر لگے کنڈوں کے نشان بھی ہیں جن سے نور جہاں کے تابوت کو چھت پر لٹکایا گیا تھا کیونکہ نور جہاں کی وصیت تھی کہ اسے زمین میں دفن نہ کیا جائے لہٰذا اس کے مقبرے کی تہ خانے کی چھت پر اس کے تابوت کو لٹکا دیا گیا تھا جس طرح اس کی وصیت تھی لیکن سکھ دور میں اس مقبرے کو لوٹ مار کا نشانہ بنایا گیا تابوت کو اُتار کر اس پر لگے ہیرے جواہرات لٹیروں نے لوٹ لیے بعد میں ملکہ کے تابوت کو عین اسی جگہ جہاں لٹکایا گیا تھا زمین میں دفن کر دیا اب زمین پر ایک سلائیڈنگ دروازہ لگا ہوا تھا سامنے سیڑھیاں تھیں ہم نے نیچے اُتر کر نورجہاں کی اصلی قبر بھی دیکھی اور فاتحہ پڑھی اور چھت پر لگے کنڈوں کے نشانات بھی جن سے نور جہاں کے تابوت کو چھت پر لٹکایا گیا تھا۔ کیا مقام عبرت تھا وہ جو ہندوستان کے شہنشاہ کی چہیتی ملکہ تھی آج اپنے مقبرے میں بے نشان تھی نشاندہی کے لیے چار گھونٹوں میں رسی کا گھیرا تھا۔ نور جہاں بہت اچھی شاعرہ تھی اوپر مزار کی لوح پر جو اشعار لکھے تھے۔

بر مزار ما غریباں، نے چراغِ نے گلے
نے پر پروانہ سوزد، نے صدائے بلبلے

ٹھیک یہی حال تھا نور جہاں کے مقبرے کا کشمیر کے موسموں کا ذکر کرتے کرتے نورجہاں کے مقبرے کی یاد آگئی بات تو کشمیر کی بیٹی کی کرنی ہے جو آج کئی عشروں سے بھارت کی تہاڑ جیل میں قید ہے نور جہاں سے آسیہ اندرابی کی کوئی مماثلت نہیں سوائے اس کے کہ نور جہاں ہندوستان کے شہنشاہ کے دل میں بستی تھی اور آسیہ اندرابی کشمیری خواتین کے دل میں بستی ہیں، ساتھ وہ ان کے لیے رول ماڈل بھی ہیں۔ آج کٹ پتلی بھارتی عدالت نے حریت رہنما آسیہ اندرابی کو مجرم قرار دے دیا اور ان کو سزائیں سنانے کا فیصلہ کیا ان کا یہ مقدمہ بھارت کی انویسٹی گیشن ایجنسی کی عدالت میں چلایا گیا۔

آسیہ اندرابی کشمیری خواتین کی تنظیم دختران ملت کی بانی ہیں یہ تنظیم کشمیر کی بھارت سے علٰیحدگی کے لیے کام کرنے والی آل پارٹیز حریت کانفرنس کا حصہ ہے، جس کا مقصد کشمیر کی بھارت سے علٰیحدگی ہے۔ آسیہ اندرابی کشمیری حریت پسند خواتین میں بہت اہم نام ہے ان کو قریب سے جاننے والے انہیں آئرن لیڈی کہتے ہیں۔ آسیہ اندرابی نے جس گھرانے میں پرورش پائی وہاں کی خواتین پہلے ہی اسلامی جدوجہد میں پیش پیش تھیں، ان کی خالہ نے 1960 کی دہائی میں جہیز کے خلاف بیداری مہم چلائی تھی اور خواتین پر ہی مشتمل ایک میرج کمیٹی قائم کی تھی۔ 1980 کے شروع میں آسیہ اپنے خاندانی ماحول سے متاثر ہو کر ایک مدرسہ تعلیم القران قائم کر چکی تھیں جہاں وہ لڑکیوں کو قرآن، حدیث، عربی زبان اور تجوید کی تعلیم دیتی تھیں بعد میں اس مدرسے نے خواتین کی مذہبی اصلاحی تنظیم دخترانِ ملت کی شکل اختیار کر لی ان کی تنظیم دخترانِ ملت نے سری نگر کے سینما گھروں میں بالی وڈ اور ہالی وڈ فلموں کی نمائش کے خلاف باقاعدہ مہم شروع کر دی تھی۔

1987 میں آسیہ کی قیادت میں سیکڑوں برقع پوش خواتین لڑکیاں ہاتھوں میں برش اور سیاہی کی بالٹیاں لیے بازاروں میں ہالی وڈ فلموں کے پوسٹوں کو سیاہ کرتی نظر آتی تھیں ان کے مطابق اس مہم کا مقصد فحاشی کو روکنا تھا اس مہم میں بڑی تعداد میں کالج یونیورسٹی میں زیر تعلیم لڑکیاں آسیہ اندرابی کے نظریات سے متاثر ہو کر دخترانِ ملک کے ساتھ وابستہ ہو گئیں اور تنظیم نے کئی علاقوں میں اپنی درس گاہیں قائم کر لیں۔ ان کی تنظیم نے شراب نوشی اور قمار بازی کے خلاف بھی مہم چلائی ان سے وابستہ برقع پوش خواتین اکثر فوجی زیادتیوں کے خلاف بھی احتجاج کیا کرتی تھیں۔ وہ پاکستان کی بہت زیادہ حامی ہیں اور کشمیر کو پاکستان کا فطری حصہ قرار دیتی ہیں۔ کشمیری تحریک مزاحمت کے پاکستان نواز حلقے کی حمایت کرتی ہیں انہوں نے کئی مواقع پر پاکستانی پرچم لہرایا اس زمانے میں جب ان کی شادی کے بات چھڑی تو انہوں نے اپنے خاندان والوں سے صاف کہہ دیا کہ وہ صرف شادی کریں گی تو مجاہد سے چنانچہ ان کی شادی سری نگر کے عاشق حسین فتکو سے کی گئی وہ اس زمانے میں مسلح تنظیم جمعیت المجاہدین کے ترجمان تھے اور قاسم کے نام سے معروف تھے شادی کے دو سال بعد ہی فتکو اپنی اہلیہ آسیہ اندرابی اور چھے ماہ کے بیٹے محمد بن قاسم سمیت گرفتار ہو گئے اگرچہ فتکو کو ماتحت عدالتوں نے الزامات سے بری کر دیا لیکن چند ماہ بعد ہی انہیں دوبارہ گرفتار کر گیا اور 2003 میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔ آج وہ لگ بھگ 27 سال سے قید میں ہیں اور کشمیر کے آزادی پسند حلقوں میں نیلسن منڈیلا آف کشمیر کے نام سے معروف ہیں، انہوں نے دوران قید اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور مختلف اسلامی موضوعات پر کتابیں تصنیف کیں جن میں سے نصف درجن کتابیں انگریزی زبان میں ہیں۔ آج سوال یہ ہے کہ پاکستان آسیہ اندرابی دختر کشمیر کو مجرم قرار دینے پر کیا اور کیسے ردعمل دیتا ہے۔

غزالہ عزیز سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا سیہ اندرابی نور جہاں کے کے تابوت کو کشمیر کی گیا تھا کے خلاف چھت پر کے لیے

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق

مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آزاد کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے بڑی سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔

صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس اور مسلم کانفرنس کے صدر سردارعتیق کی ملاقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔  آزاد کشمیر کے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کےبعد بھی مشترکہ حکمت عملی کےتحت آگےبڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔ طے پایا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی امیدواروں کی حمایت کا حتمی اعلان جلدکرے گی۔

لومئیربرادرز اپنی ایجاد پر بہت مسرور تھے، وہ جہاں بھی اپنا سینما لے کر جاتے لوگ ششدر رہ جاتے ، وہ یہ کھیل تماشہ لے کر ہندوستان بھی آئے تھے

دونوں قائدین نے  مسلح افواج اوراداروں کی مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ ملاقات میں آئی پی پی کی جانب سے سردار امتیاز،سردارافتخار رشید اور سردارمنظور ایڈووکیٹ موجود تھے۔ سردارمحمود خان، سردار شجاع منگول، شبدیزصابر سمیت دیگر آئی پی پی رہنما بھی شریک ہوئے۔ جبکہ مسلم کانفرنس کے سردارعثمان عتیق،ڈاکٹرعرفان اشرف،سردارعفان عتیق،راجاعبدالجبار اور دیگر نے شرکت کی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع