Jasarat News:
2026-06-02@23:57:34 GMT

محنت کشوں کے ادارے ریلیف دینے میں ناکام ہیں‘ شفیع ملک

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

محنت کشوں کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ ای او بی آئی سمیت دیگر محنت کشوں کے ادارے محنت کشوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ محنت کشوں کو اپنے اتحاد اور یکجہتی کے ذریعے ہی اپنے حقوق حاصل کرنے ہوں گے۔ یہ بات وی ٹرسٹ کے چیئرمین پروفیسر محمد شفیع ملک نے الکاسب فورم کے زیر اہتمام مذاکرہ محنت کشوں کے مسائل اور ان کاحل سے اپنے خصوصی خطاب میں کہی۔مذاکرے کے مہمان خصوصی نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کے صدر شکیل احمد شیخ تھے۔جبکہ اس مذاکرے سے پیاسی یونین کے صدر نجیب الرحمن، اسٹیٹ بینک سی بی اے یونین کے سابق جنرل سیکرٹری عزیز اللہ خان نیازی،ایپوا کے چیئرمین شمیم اظفر،جنرل سیکرٹری علمدار رضا، نائب صدر شمس الضحیٰ زبیری ،ٹریڈ یونینز ایکشن کمیٹی کے صدر محمد سعید خان،کے الیکٹرک لیبر یونین کے رہنما زمرد اعوان خان،نیشنل لیبر یونین حیدرآباد زون کے جنرل سیکرٹری اعجاز حسین ،ریلوے پریم یونین اوپن لائن حیدرآباد ڈویژن کے صدر مبین راجپوت ودیگر نے شرکت کی۔الکاسب فورم کے صدر قاسم جمال نے ابتدائی گفتگو میں کہا کہ کہ الکاسب فورم محنت کشوں کے مسائل اور باہمی مشاورت کے لیے قائم کیا گیاہے اور ہر ماہ باقاعدگی سے ٹریڈ یونینز رہنما یہاں بیٹھ کر پروفیسر شفیع ملک سے رہنمائی حاصل کریں گے۔ وی ٹرسٹ کے چیئرمین پروفیسر محمد شفیع ملک نے کہا کہ پاکستان میں روز بروز محنت کشوں کی حالت زار بگڑتی جارہی ہے۔محنت کشوں کے اداروں میں کرپشن سرایت کر چکی ہے جس کی وجہ سے عام محنت کش شدید پریشانی اور مشکلات کا شکار ہیں۔ ای او بی آئی کی گورننگ باڈی گزشتہ کئی سالوں سے تبدیل نہیں ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں وہ متعلقہ اداروں اور وزارت کو خطوط ارسال کریں گے۔ محنت کشوں کو اپنے حقوق کے لیے متحد اور منظم ہونا ہو گا۔ وی ٹرسٹ محنت کشوں کی تعلیم تربیت کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ الکاسب فورم کا قیام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ مہمان خصوصی نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کے صدر شکیل احمد شیخ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر شفیع ملک کی شخصیت محنت کشوں کے لیے ایک سائبان کی حیثیت رکھتی ہے۔

ہم ان کی رہنمائی میں محنت کشوں کے مسائل حل کریں گے۔ سندھ میں محنت کشوں کی حالت زار انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔ ٹھیکہ داری نظام کو جبری طور پر مسلط کیا جارہا ہے اور محنت کشوں کے ادارے محنت کشوں کے بجائے سرمایہ داروں کے حقوق کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔ پی آئی اے پیاسی یونین کے صدر نجیب الرحمن نے کہا کہ قومی اداروں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور ایک جہاز کی قیمت پر پوری پی آئی اے کو بیچ دیا گیا ہے۔ قومی اداروں کی نج کاری ملک وقوم کے لیے زہر قاتل ہے۔ ایپوا کے چیئرمین شمیم اظفر نے کہا کہ اپنی پوری زندگی ملک وقوم اور اداروں کو دینے والے ریٹائرمنٹ کے بعد مشکلات کا شکار ہیں اور ای او بی آئی جو کہ محنت کشوں کے پیسوں پر قائم ہوا ہے یہ ادارہ محنت کشوں کے لیے سب سے زیادہ مشکلات اور مصائب پیدا کر رہا ہے۔ علمدار حیدر نے کہا کہ ریٹائر ملازمین کے حقوق کے لیے ہم بھرپور طریقے سے جدو جہد کر رہے ہیں۔شمس الضحیٰ زبیری نے کہا کہ محنت کشوں کو اپنے حقوق کے لیے میدان عمل میں نکلنا ہوگا۔اسٹیٹ بینک سی بی اے یونین کے سابق جنرل سیکرٹری عزیز اللہ خان نیازی نے کہا کہ پاکستان میں بیکنگ سیکٹر میں ٹریڈ یونینز کو عملی طور پر ختم کر دیا گیا ہے اور بیکنگ سیکٹر کا محنت کش بڑی مشکلات اور پریشانی کا شکار ہے اور اس کا کوئی پرسان حال بھی نہیں ہے۔ ریلوے پریم یونین اوپن لائن حیدرآباد ڈویژن کے صدر مبین راجپوت نے کہا کہ ریلوے ملازمین پر بھی نج کاری کی تلوار لٹک رہی ہے۔ اربوں روپے منافع دینے والا ادارہ آج پھر خسارے میں ہے جو کہ انتظامیہ کی نااہلی کی علامت ہے۔ ٹریڈ یونینز ایکشن کمیٹی کے صدر محمد سعید خان نے کہا کہ محنت کشوں کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے عملی جدو جہد کرنا ہوگی اور مفاد پرست ٹریڈ یونینز لیڈروں سے اپنی جان چھڑانا ہوگی۔ نیشنل لیبر فیڈریشن حیدر آباد کے جنرل سیکرٹری اعجاز حسین نے کہا کہ سندھ میں محنت کشوں کو بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ حیدرآباد میں چوڑی کی صنعت تباہ کردی گئی۔ ایچ ڈی اے اور بجلی کمپنیوں کا مزدور مشکلات کا شکار ہے، ایسے میں محنت کشوں کو مل کر ان مشکلات کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ کے الیکٹرک لیبر یونین کے رہنما زمرد اعوان نے کہا کہ کے الیکٹرک کی نجکاری نے شہر میں تباہی پھیلا دی ہے ۔ ہزاروں محنت کشوں کو بے روزگار کیا گیا، اس کے باوجود آج شہر میں بجلی کا بدترین بحران ہے۔ عدالت کے فیصلوں کے باوجود کے الیکٹرک کی انتظامیہ کے الیکٹرک کے محنت کشوں کو ملازمتوں پر بحال نہیں کر رہی ہے۔ الکاسب فورم کے صدر قاسم جمال نے کہا کہ آج ہماری یہ دوسری نشست تھی اور ہم ہر ماہ محنت کشوں کے ساتھ نشست کر کے ان کے مسائل اور مشکلات حل کریں گے۔

قاسم جمال گلزار

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: محنت کشوں کے مسائل محنت کشوں کو اپنے جنرل سیکرٹری ٹریڈ یونینز الکاسب فورم کے الیکٹرک نیشنل لیبر کے چیئرمین اپنے حقوق نے کہا کہ یونین کے شفیع ملک حقوق کے کریں گے کا شکار کے لیے ہے اور کے صدر

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی