اسپین، دو ٹرینوں کے درمیان خوفناک تصادم، 21 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
MADRID:
یورپی ملک اسپین کے جنوبی علاقے میں تیز رفتار مسافر ٹرین اچانک پٹری سے بے قابو ہو کر مخالف سمت سے آنے والی ٹرین سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں دونوں ٹرینیں الٹ گئیں.
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق شدید تصادم میں 21 مسافر موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 21 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والی میڈرڈ سے ہیولوا جانے والی ٹرین کا ڈرائیور بھی جانبر نہ ہو سکا۔
ذرائع کے مطابق حادثے کے وقت ایک ٹرین میں 300 سے زائد جبکہ دوسری ٹرین میں تقریباً 100 مسافر سوار تھے۔ تصادم کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ڈبے ایک دوسرے پر چڑھ گئے اور ٹریک کئی مقامات سے اکھڑ گیا۔
حادثے کے فوراً بعد امدادی ٹیمیں، فائر بریگیڈ اور طبی عملہ موقع پر پہنچ گیا، زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جبکہ ٹرین سروس کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔