کراچی کی فضا میں آج صرف دھواں نہیں، سسکیاں اور ناامیدی بھی رچی ہوئی ہے۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگی آگ تو تھم گئی، لیکن بجھنے والی آگ سے کہیں زیادہ شدید تپش اس ماں اور اس بہن کے دل میں ہے جو اسپتال اور پلازہ کے باہر دیوانہ وار اپنے پیاروں کو ڈھونڈ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی گل پلازہ آتشزدگی: صدر زرداری کی وزیراعلیٰ سندھ کو تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت

ایک متاثرہ خاتون کی آواز میں چھپا کرب پتھروں کو بھی پگھلا دینے کے لیے کافی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کے خاندان کے 6 افراد، جن کے چہروں پر شادی کی خریداری کی چمک تھی، آج اسی عمارت کے ڈھیر میں کہیں کھو گئے ہیں۔

آخری بار جب فون پر بات ہوئی تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا تھا کہ بس 10 منٹ میں خریداری ختم کر کے باہر آ رہے ہیں۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ 10 منٹ کبھی ختم نہیں ہوں گے اور وہ رابطہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جائے گا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ تمام فون بند ہیں اور رابطے کی ہر ڈور کٹ چکی ہے۔ وہ خاتون جن کی آنکھوں کے سامنے اب صرف بربادی کا منظر ہے، دہائی دیتے ہوئے کہتی ہیں، کوئی تو باہر آ جائے، کوئی تو زندہ بچا ہو، یہ منظر اب مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔

بدقسمتی سے وہ امیدیں جو ایک شادی کے گھر میں چراغاں کرنے والی تھیں، اب بجھ چکی ہیں۔ گل پلازہ کی یہ آگ شاید بجھ جائے، لیکن ان خاندانوں کے دلوں میں لگی یہ آگ کبھی نہیں بجھ سکے گی جن کے پیارے ’ 10 منٹ‘ کا کہہ کر ابدی نیند سو گئے۔

خوابوں کی تعبیر، بجٹ کے اندر

سارہ، جن کی شادی پچھلے ماہ ہوئی، بتاتی ہیں کہ وہ اپنے جہیز کی خریداری کو لے کر کافی فکر مند تھیں۔ آج کل کی مہنگائی میں برانڈڈ اسٹورز پر جانا جیب پر بھاری پڑتا ہے، لیکن گل پلازہ نے میری مشکل آسان کر دی تھی۔ یہاں آپ کو ایک ہی چھت کے نیچے کچن کے چمچ سے لے کر بیڈروم کے کمفرٹر سیٹ تک سب کچھ مل جاتا ہے۔

سارہ نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے اپنا زیادہ تر وقت فرسٹ فلور اور بیسمنٹ میں گزارا تھا۔ میں نے وہاں سے ایک ایسا ڈنر سیٹ خریدا جو بالکل وہی ڈیزائن تھا جو میں نے ایک بڑے مال میں دگنی قیمت پر دیکھا تھا۔ بس آپ کو تھوڑی محنت کرنی پڑتی تھی اور دکانوں کے چکر لگانا پڑتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ آتشزدگی سانحہ: تاجروں کے الائنس نے کل یوم سوگ منانے کا اعلان کردیا

سارہ کے مطابق انہوں نے وہاں سے استری، سینڈوچ میکر اور مائیکرو ویو اوون خریدا۔ ان کا کہنا تھا کہ وارنٹی کارڈز اور قیمتوں میں رعایت یہاں کا پلس پوائنٹ ہے۔ دلہن کے لیے ریشمی کڑھائی والے کمفرٹر سیٹس کی ورائٹی نے انہیں بہت متاثر کیا۔ گھر کو سجانے کے لیے کرسٹل کے شو پیسز اور لیمپس کی ایک بڑی رینج وہاں دستیاب تھی۔

گل پلازہ میں تو چور کے بھاگنے کا راستہ نہیں تھا

خاتون صحافی مانیہ شکیل نے وی نیوز کو بتایا کہ چند روز قبل انہیں خریداری کے لیے گل مال جانا تھا، لیکن سوچا قریب ہی موجود گل پلازہ کا بھی چکر لگا لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب میں گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور سے ہوتے ہوئے بیسمنٹ میں گئی تو وہاں جا کر اندازہ ہوا کہ کوئی ایگزٹ نہیں ہے۔ ایک ہی انٹرنس اور ایک ہی ایگزٹ ہے۔

مانیہ شکیل کا مزید کہنا تھا کہ کچھ اسی طرح کی صورتحال گراؤنڈ فلور کی بھی تھی، جہاں کوئی خاص احتیاطی تدابیر نہیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا مسئلہ جگہ جگہ جنریٹرز کا ہونا ہے، کیونکہ وہاں لوڈشیڈنگ کا بھی مسئلہ تھا۔ مانیہ شکیل کے مطابق کچھ ایسی ہی صورتحال پہلی منزل پر بھی دیکھنے میں آئی۔

مانیہ کے مطابق یہ کراچی میں شادی کا سیزن ہے اور یہ مارکیٹ اس حوالے سے الگ پہچان رکھتی تھی کہ یہاں شادیوں کے سیزن میں اہلِ کراچی خریداری کے لیے آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اتفاق سے ہماری موجودگی میں ہی وہاں بجلی چلی گئی اور پھر جنریٹرز اسٹارٹ ہوئے، جس کے بعد روشنی تو ہو گئی لیکن شور اتنا تھا کہ خریدار پریشان ہو جائیں۔

مانیہ کا کہنا تھا کہ اس دن اتفاق سے ہم یہی بات کر رہے تھے کہ یہاں اگر کوئی چوری کر کے بھاگے تو اس کے لیے بھی جگہ نہیں، ایسے میں اللہ نہ کرے کہ کوئی حادثہ ہوجائے تو لوگ یہاں سے کیسے نکلیں گے۔ گل پلازہ کی کھڑکیوں سے ایمرجنسی میں نکلنے کی بھی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی تھی۔

مجھے کیا پتا تھا کہ گھر پر موجود اشیا گل پلازہ کی آخری نشانیاں ہوں گی

کراچی کی رہائشی سبرینہ علی، گل پلازہ میں آگ لگنے سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات پر تو اداس ہیں، لیکن ان کی اداسی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک ایسی مارکیٹ، جہاں مناسب داموں پر اچھی اشیا مل جاتی تھیں، اب ہم اس سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں وہاں سے ڈیکوریشن کی اشیا اور بچوں کے کپڑے اکثر خریدتی تھی، اور یہاں کی مجھے یہ بات اچھی لگتی تھی کہ اشیا کی کوالٹی اچھی ہوتی تھی اور وہ بھی مناسب داموں پر۔ بچوں کے کھلونے ہوں یا اسٹڈی ٹیبل، یہ میرے گھر میں موجود وہ اشیا ہیں جو گل پلازہ کی آخری نشانیاں ہیں۔

یہ نقصان ہم سب کا ہے

کراچی کی رہائشی کسا فاطمہ کا کہنا ہے کہ شادی سے لے کر شادی کے بعد اور بچوں کی پیدائش کے بعد گل پلازہ میری خریداری کے لیے آل اِن ون پلازہ تھا۔ وہاں جانے کا مطلب ہوتا تھا کہ مناسب داموں پر ہر چیز مل جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ہفتہ قبل ہی میں وہاں ہو کر آئی تھی۔ ہمارے ہاں ابھی ایک شادی ہوئی، ساری خریداری وہیں سے کی گئی، اور خاص بات یہ ہے کہ اگر آپ کسی بھی وجہ سے جا نہیں پا رہے تو گل پلازہ سے آن لائن بھی منگوا لیا جاتا تھا۔ مجموعی طور پر ہم سب کا نقصان ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

کراچی گل پلازہ گل پلازہ آتشزدگی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کراچی گل پلازہ گل پلازہ ا تشزدگی

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف