سیکرٹ سروس سمیت امریکی ادارے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حفاظت کیسے یقینی بناتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو موصول ہونے والی دھمکیوں کے بعد یو ایس سیکرٹ سروس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، جس کے باعث صدارتی دوروں کے دوران غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
جہاں کہیں بھی صدر جاتے ہیں، ایک مضبوط اور جدید حفاظتی ٹیم ان کے ہمراہ ہوتی ہے، جسے ایلیٹ فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل معاونت حاصل ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی صدر کا حفاظتی نظام دنیا کے طاقتور ترین سیکیورٹی انتظامات میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ پر حملہ: امریکی سیکریٹ سروس کی سربراہ مستعفی
صدر کی حفاظت کی ذمہ داری پریزیڈینشل پروٹیکٹو ڈویژن کے پاس ہے، جو وفاقی، ریاستی، مقامی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ یو ایس سیکرٹ سروس ایک متحرک نیم فوجی ادارے کے طور پر کام کرتی ہے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکی فوج اور خصوصی یونٹس کی خدمات بھی حاصل کرتی ہے۔ سیکیورٹی ماہرین ہر وقت صدر کے ساتھ موجود رہتے ہیں اور کیمیائی، حیاتیاتی، دھماکہ خیز، ریڈیالوجیکل اور حتیٰ کہ جوہری خطرات تک سے نمٹنے کی تیاری رکھتے ہیں۔
آفس آف پروٹیکٹو آپریشنز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جیمز ڈوناہیو کے مطابق، امریکا کے صدر کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز زیرِ غور رکھے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی منصوبہ بندی ہفتوں بلکہ مہینوں پہلے شروع کر دی جاتی ہے، جس میں تفصیلی تھریٹ اسیسمنٹ اور پیشگی جائزے شامل ہوتے ہیں۔
صدر کی حفاظت کے لیے بکتر بند گاڑیاں، ٹیکٹیکل یونٹس، کے-9 ٹیمیں، کاؤنٹر سرویلنس آپریشنز اور کیمیائی، حیاتیاتی، ریڈیالوجیکل و نیوکلیئر خطرات سے بچاؤ کے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ بیرونِ ملک دوروں کے دوران بھی سیکرٹ سروس امریکی فوج، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور میزبان ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتی ہے تاکہ ہر سطح پر سیکیورٹی یقینی بنائی جا سکے۔
حالیہ ہائی الرٹ کی ایک بڑی وجہ ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو کلپ ہے، جس میں 2024 میں پنسلوانیا کے شہر بٹلر میں صدر ٹرمپ پر ہونے والی قریب ترین قاتلانہ کوشش کا حوالہ دیا گیا۔ ویڈیو میں صدر کے کان سے خون بہتا دکھایا گیا جبکہ سیکرٹ سروس کے اہلکار انہیں فوری طور پر محفوظ مقام پر لے جا رہے تھے۔ اس کے ساتھ فارسی زبان میں لکھی گئی ایک دھمکی بھی دکھائی گئی جس میں کہا گیا، اس بار گولی خطا نہیں جائے گی۔’
یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ پر حملہ، امریکی ایف بی آئی کا حملہ آور سے متعلق کیا کہنا ہے؟
یہ دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف ملک گیر احتجاج بھی جاری ہے، جو شدید معاشی بحران اور ایرانی ریال کی قدر میں مسلسل کمی کے باعث شدت اختیار کر چکا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایرانی پارلیمنٹ کے بعض ارکان نے ممکنہ امریکی کارروائی کی صورت میں جوابی اقدام کی بات کی ہے، تاہم فی الحال امریکا کی جانب سے ایران پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ موجود نہیں۔
امریکا کے اندر بھی سیکیورٹی ادارے مکمل طور پر چوکس ہیں۔ 11 جنوری کو پام بیچ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اس وقت ایک مشتبہ شے دریافت ہوئی جب صدر ٹرمپ مارالاگو سے سفر کر رہے تھے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ کے مطابق، ‘مزید تفتیش ضروری سمجھی گئی، جس کے بعد صدارتی موٹرکیڈ کے راستے میں تبدیلی کر دی گئی۔’
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سیکرٹ سروس سیکیورٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سیکرٹ سروس سیکیورٹی ڈونلڈ ٹرمپ سیکرٹ سروس کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :