پاکستان سپر لیگ 11 میں تاریخی اصلاحات، پلیئر ڈرافٹ کی جگہ پلیئر آکشن ماڈل متعارف
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ نے اپنے 11ویں ایڈیشن سے قبل اہم اور تاریخی فیصلوں کا اعلان کر دیا ہے، جو لیگ کی مسلسل ترقی، مسابقت اور جدت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
ایک دہائی کی کامیابی کے بعد پہلی مرتبہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 میں روایتی پلیئر ڈرافٹ سسٹم کو ختم کرتے ہوئے پلیئر آکشن ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس اسٹریٹجک تبدیلی کا مقصد ٹیموں کے درمیان مسابقتی توازن کو بہتر بنانا، شفافیت میں اضافہ کرنا اور کھلاڑیوں کو زیادہ بہتر مالی مواقع فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان سپر لیگ سے قبل ’ملتان سلطانز‘ کی نیلامی کا فیصلہ
نظرثانی شدہ پلیئر حصول فریم ورک کے تحت ہر فرنچائز زیادہ سے زیادہ 4 کھلاڑی برقرار رکھ سکے گی، جبکہ ہر کیٹیگری سے صرف ایک کھلاڑی کو ریٹین کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس سے قبل فرنچائزز کو اپنی اسکواڈ سے 8 کھلاڑی برقرار رکھنے کی اجازت تھی، جن میں مینٹور، برانڈ ایمبیسیڈر اور رائٹ ٹو میچ آپشن شامل تھا، جس کے تحت 9ویں کھلاڑی کو بھی برقرار رکھا جا سکتا تھا۔ تاہم ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 میں مینٹور، برانڈ ایمبیسیڈر اور رائٹ ٹو میچ سے متعلق تمام قوانین ختم کر دیے گئے ہیں۔
نئی شامل ہونے والی ٹیموں کو پلیئر آکشن سے قبل دستیاب پلیئر پول میں سے 4 کھلاڑی منتخب کر کے برقرار رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ہر فرنچائز کو یہ سہولت بھی حاصل ہوگی کہ وہ ایک ایسے غیر ملکی کھلاڑی کو براہِ راست سائن کر سکے، جو ایچ بی ایل پی ایس ایل 10 میں شامل نہیں تھا، تاکہ ٹیمیں تازہ بین الاقوامی ٹیلنٹ کے ذریعے اپنے اسکواڈ کو مضبوط بنا سکیں۔
یہ بھی پڑھیے: پی ایس ایل کی 2 نئی ٹیموں کی نیلامی: 7ویں ٹیم حیدر آباد 175 کروڑ، 8ویں ٹیم سیالکوٹ 185 کروڑ روپے میں فروخت
لیگ کے کمرشل اور مسابقتی ڈھانچے کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ہر فرنچائز کا پلیئر سیلری پرس بڑھا کر 16 لاکھ امریکی ڈالر کر دیا گیا ہے، جو کھلاڑیوں کی کارکردگی کے اعتراف اور اعلیٰ معیار کے ملکی و غیر ملکی کرکٹرز کو متوجہ کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
یہ بھی پڑھیے: نیلامی سے چند لمحات قبل علی ترین کا پی ایس ایل فرنچائز نیلامی سے دستبرداری کا اعلان
یہ تمام ترقی پسند اقدامات ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے اس وژن کی عکاسی کرتے ہیں جس کا مقصد کرکٹ میں اعلیٰ معیار، شائقین کی بھرپور دلچسپی اور لیگ کو نئی بلندیوں تک پہنچانا ہے۔
ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 11 کا باقاعدہ آغاز 26 مارچ 2026 سے ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی فیصل آباد کو لیگ کے میچز کے لیے ایک اضافی وینیو کے طور پر شامل کر لیا گیا ہے، جو اس شہر کی دوبارہ کرکٹ کے منظرنامے میں واپسی اور لیگ کے قومی دائرہ کار میں مزید وسعت کی علامت ہے۔
پلیئر آکشن کے طریقہ کار، شیڈول اور آپریشنل گائیڈ لائنز سے متعلق مزید تفصیلات آئندہ دنوں میں جاری کی جائیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پلیئر ڈرافٹ پی ایس ایل نیلامی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پلیئر ڈرافٹ پی ایس ایل نیلامی پاکستان سپر لیگ پلیئر آکشن پی ایس ایل ایچ بی ایل لیگ کے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :