اسلام آباد میں ’پیپر مولبیری‘ کی کٹائی کا فیصلہ عوامی صحت اور ماحول دوست اقدام
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
اسلام آباد میں بہار کے موسم میں سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی بڑی وجہ پیپر مولبیری کے درخت ہیں۔ شہر کے 29,000 خطرناک درخت ہٹائے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ 40,000 محفوظ پودے لگائے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کی صحت بہتر رہے اور ماحول بھی محفوظ رہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، پولن الرجی سے نجات یا نیا ماحولیاتی بحران؟
پیپر مولبیری ایک ایسا درخت ہے جو زیادہ الرجی پیدا کرتا ہے اور اس کے پولن سے بہت سے لوگ بیمار ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے اسلام آباد میں بہار کے موسم میں دمہ اور سانس کی بیماریوں کے کیسز بڑھ جاتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس درخت کے پولن کی موجودگی میں دمہ کے حملے، پھیپھڑوں کی کمزوری اور اسپتال میں علاج لینے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ تقریباً آدھے شہر کے لوگ اس پولن کے لیے حساس ہیں اور مارچ میں روزانہ 80 سے 110 لوگ اسپتال پہنچتے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ پیپر مولبیری صرف ایک عام درخت نہیں بلکہ سانس کے لیے خطرناک ہے۔ اس کے پولن کی مقدار عالمی حد سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اسپتال میں آنے والے مریضوں کی بڑی تعداد اس درخت سے متاثر ہوتی ہے۔
2023 سے 2025 کے دوران 29,000 خطرناک درخت ہٹائے گئے اور 40,000 محفوظ پودے لگائے گئے، جس سے الرجی کے کیسز میں 23 فیصد کمی آئی۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ درختوں کی سائنسی بنیاد پر دیکھ بھال نہ صرف لوگوں کی جان بچاتی ہے بلکہ ہسپتال پر بھی دباؤ کم کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا سخت ردعمل
اسلام آباد کا یہ قدم دنیا کے بڑے شہروں جیسے ٹوکیو، بارسلونا اور امریکا کی پالیسیوں کے مطابق ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صحت کی حفاظت اور ماحول کا خیال ایک ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔ شہریوں کے لیے یہ نہ صرف سانس کی بیماریوں سے بچاؤ ہے بلکہ ایک واضح پیغام بھی ہے کہ صحت اور ماحول دونوں اہم ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام اباد الرجی پیپر مولبیری درختوں کی کٹائی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد الرجی پیپر مولبیری درختوں کی کٹائی اسلام آباد میں پیپر مولبیری اور ماحول درختوں کی کی کٹائی کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔