اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ایڈہاک ججز نے مستقل تعیناتی کے بعد آج حلف اٹھا لیا۔ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے جسٹس محمد آصف، جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس سے حلف لیا۔ تقریب میں قانونی اور عدالتی حلقوں کے اہم شخصیات نے شرکت کی اور یہ تقریب مذہبی اور قومی ترانہ کی دھن کے ساتھ شروع ہوئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں آج ایک اہم عدالتی تقریب ہوئی جس میں 3 نئے ججز کی مستقل تعیناتی کا حلف لیا گیا۔ حلف برداری کی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور بعد میں قومی ترانے کی دھن بجائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:سابق سی ای او پی آئی اے سے منسلک تنازع، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کردیا

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے تینوں ججز جسٹس محمد آصف، جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس سے حلف لیا۔ رجسٹرار نے ججز کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن پڑھ کر تقریب میں سنایا، جس کے مطابق وزارت قانون نے صدر مملکت کی منظوری سے تینوں ججز کی مستقل تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔

تقریب میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے دیگر ججز، اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر واجد گیلانی اور سیکرٹری منظور ججہ بھی شریک ہوئے۔ تینوں ججز نے مستقل تعیناتی سے قبل تقریباً ایک سال ایڈہاک ججز کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔

چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے تقریب میں ججز کی کارکردگی کی تعریف کی اور کہا کہ عدلیہ میں شفاف اور مضبوط نظام قائم کرنے کے لیے مستقل اور تجربہ کار ججز کی تعیناتی ضروری ہے۔ اس موقع پر قانون دانوں اور بار ایسوسی ایشن کے اراکین نے نئے ججز کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

اس حلف برداری کے بعد تینوں ججز اب مستقل طور پر عدالتی امور میں حصہ لیں گے، اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے مختلف بینچز میں اہم مقدمات کی سماعت کریں گے۔ یہ قدم عدالتی نظام میں استحکام اور بہتر عدالتی خدمات کی فراہمی کی جانب اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام آباد ہائیکورٹ اعظم نذیر تارڑ تقریب حلف برداری ججز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ اعظم نذیر تارڑ تقریب حلف برداری

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل