لاہور میں جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاری اور امن و امان کے قیام کے لیے سرچ و کومبنگ آپریشنز جاری ہیں۔

ترجمان لاہور پولیس کے مطابق ماہ جنوری میں اب تک 400 سے زائد سرچ آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔ ان آپریشنز کے دوران 13 ہزار سے زائد گھروں اور 5 ہزار سے زائد کرایہ داروں کی چیکنگ کی گئی جبکہ 39 ہزار سے زائد افراد کی شناختی تصدیق اور جانچ پڑتال بھی کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی وادی تیراہ آپریشن کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟

آپریشنز کے دوران 181 دکانیں، 79 ہوٹل، 35 گیسٹ ہاوسز، 12 ہوٹل اور 16 گوداموں کی تلاشی لی گئی۔ مختلف خلاف ورزیوں پر 70 افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی اور 24 اشتہاری گرفتار کیے گئے۔ اسی دوران ناجائز اسلحہ کے 11 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

کرایہ داری ایکٹ کے تحت 18 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 55/109 ضابطہ فوجداری کے تحت 8 افراد زیر حراست ہیں۔ صوبائی دارالحکومت میں قیام امن یقینی بنانے کے لیے سرچ اینڈ کومبنگ آپریشنز جاری رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: لاہور پولیس کا ’مشینی مخبر‘: اب مصنوعی ذہانت چور ڈکیت پکڑوائے گی!

سی سی پی او لاہور کی ہدایت ہے کہ شہر کے انٹری اور ایگزٹ پوائنٹس پر سخت چیکنگ یقینی بنائی جائے اور افسران و جوان اپنے اپنے علاقوں میں متحرک رہ کر فرائض انجام دیں۔ بلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لیے آپریشنز جاری رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلحہ پنجاب لاہور پولیس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: لاہور پولیس کے لیے

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود