کنگ فو لیجنڈ مشہور اداکار سیو لونگ لیونگ 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
ہانگ کانگ (ویب ڈیسک) ہانگ کانگ فلم انڈسٹری کے لیجنڈری مارشل آرٹس اداکار سیو لونگ لیونگ 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
سیو لونگ لیونگ کے اہلِ خانہ نے ان کے انتقال کی تصدیق ہانگ کانگ کے معروف میڈیا ادارے سنگ تاؤ ہیڈ لائنز کو کی، خاندان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ تدفین کے انتظامات نجی سطح پر کیے جا رہے ہیں، جبکہ ان کی آخری رسومات اور الوداعی تقریب 26 جنوری 2026 کو چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر شین ژین کے علاقے لونگ گانگ میں منعقد کی جائے گی۔
سیو لونگ لیونگ ہانگ کانگ فلم انڈسٹری کا ایک بڑا نام تھے اور 1970 اور 1980 کی دہائی میں مارشل آرٹس فلموں کے نمایاں ستاروں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے فلمی کیریئر میں شہرت اس وقت حاصل کی جب انہوں نے کردار ’چن ژن‘ ادا کیا، جو بعد میں کنگ فو فلموں میں ایک یادگار کردار بن گیا۔
بعد ازاں انہوں نے نئی نسل کے ناظرین میں بھی اپنی پہچان قائم کی، خاص طور پر اسٹیفن چاؤ کی عالمی شہرت یافتہ فلم کنگ فو ہسل میں ’دی بیسٹ‘ کے کردار کے ذریعے۔ اس فلم میں ان کی اداکاری کو آج بھی فلم کے سب سے یادگار اور پسندیدہ عناصر میں شمار کیا جاتا ہے۔
سیو لونگ لیونگ کا شمار ان اداکاروں میں ہوتا تھا جنہوں نے نہ صرف اسکرین پر بلکہ حقیقی زندگی میں بھی مارشل آرٹس میں مہارت حاصل کی۔ وہ گو جُو ریو کراٹے اور وِنگ چُن جیسے فنونِ حرب میں تربیت یافتہ تھے۔ بروس لی کے انتقال کے بعد ابھرنے والے ’بروسپلوٹیشن‘ اداکاروں میں بھی ان کا نام نمایاں رہا۔
اپنے طویل فلمی کیریئر کے دوران سیو لونگ لیونگ نے درجنوں کلاسک مارشل آرٹس فلموں میں کام کیا اور کنگ فو سنیما کی تاریخ میں ایک منفرد مقام بنایا۔ ان کے انتقال پر فلمی دنیا اور مداحوں کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔