ساس نے شادی کی دن کیا نصیحت کی تھی؟ اکشے کمار کا 25ویں سالگرہ پر پیغام وائرل
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
بالی ووڈ کھلاڑی اکشے کمار نے اپنی شادی کی 25ویں سالگرہ پر اہلیہ ٹوئنکل کھنہ کے نام پیغام جاری کیا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا، پوسٹ میں اداکار نے ساس ڈمپل کپاڈیا کی شادی کے دن دی گئی نصیحت کو یاد کیا۔
بالی ووڈ اداکار اکشے کمار اور مصنفہ و اداکارہ ٹوئنکل کھنہ نے اپنی شادی کے 25 سال مکمل کرلیے ہیں۔
View this post on Instagramاکشے کمار کے اس سفر کا آغاز ’چٹ منگنی پٹ بیاہ‘ سے ہوا تھا، جوڑے نے 2001 میں ایک سادہ تقریب میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کا فیصلہ کیا تھا جس میں صرف 50 مہمان شریک تھے۔
اکشے اور ٹوئنکل کی شادی کا مقام بھی دیگر مشہور شخصیات کی شادیوں سے مختلف تھی، کیونکہ یہ تقریب ایک بوتیک میں منعقد ہوئی تھی۔
اپنی شادی کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر 58 سالہ اداکار نے ایک سلو موشن ویڈیو شیئر کی جس میں ٹوئنکل ’رمبا ہو ہو ہو، سامبا ہو ہو ہو‘ گانے پر رقص کرتی نظر آئیں۔
ویڈیو کے ساتھ اکشے کمار نے وہ نصیحت بھی بتائی جو انہیں شادی کے دن اپنی ساس، معروف اداکارہ ڈمپل کپاڈیا سے ملی تھی۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’جب ہماری شادی 2001 میں اسی دن ہوئی تو ٹوئنکل کی والدہ نے کہا تھا، ‘بیٹا، عجیب و غریب حالات میں ہنسنے کے لیے تیار رہنا، کیونکہ یہ بالکل ایسا ہی کرے گی‘۔
بالی ووڈ کے کھلاڑی نے مزید لکھا کہ 25 سال گزر گئے اور اب مجھے پتا ہے کہ میری ساس کبھی جھوٹ نہیں بولتیں، ان کی بیٹی سیدھا چلنے کے بجائے ناچنا پسند کرتی ہیں۔
انہوں نے اپنے پیغام کا اختتام ان الفاظ پر کیا کہ دیوانگی کے 25 سال جنہیں ہم دونوں دل سے پسند کرتے ہیں، ہمیں شادی کی سالگرہ مبارک! پہلے دن سے لے کر 25 سال تک، میری اس ساتھی کے نام جو مجھے ہنساتی رہتی ہے، حیران رکھتی ہے اور کبھی کبھار تھوڑا سا بے چین بھی کر دیتی ہے۔
واضح رہے کہ اکشے کمار اور ٹوئنکل کھنہ کے دو بچے بیٹا آراو اور بیٹی نتارا ہیں۔
دوسری جانب، ہر سال کی طرح اس سال بھی اکشے کمار کی متعدد فلمیں ریلیز کیلیے تیار ہیں جن میں بھوت بنگلہ، ویلکم ٹو دی جنگل اور حیوان شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔