’دی لائن کنگ‘ اور ’الادین‘ کے مداحوں کیلیے افسوسناک خبر سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
ڈزنی کے معروف اینیمیٹر، ہدایت کار اور کہانی نویس راجر ایلرز 76 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
راجر ایلرز کے انتقال سے عالمی اینیمیشن انڈسٹری ایک ایسے تخلیق کار سے محروم ہو گئی ہے جس کے کام نے کروڑوں ناظرین کے بچپن کی یادوں کو ایک نئی شکل دی۔
راجر ایلرز نے دی لائن کنگ، الادین، دی لِٹل مرمیڈ اور بیوٹی اینڈ دی بیسٹ جیسی لازوال فلموں کی تخلیق میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ان کی وفات کی تصدیق ان کے قریبی ساتھی اور پروڈیوسر ڈیو بوسرٹ نے کی۔
بوسرٹ کے مطابق وہ چند روز قبل ہی مصر کے سفر کے دوران راجر ایلرز سے ای میل کے ذریعے رابطے میں تھے، جس کے باعث یہ خبر مزید ناقابلِ یقین محسوس ہو رہی ہے۔
انہوں نے راجر ایلرز کو ڈزنی اینیمیشن کے سنہری دور کا مضبوط ستون بھی قرار دیا۔
راجر ایلرز نے اپنے کیریئر کا آغاز 1982 میں فلم ٹرون کے لیے اسٹوری بورڈ آرٹسٹ کے طور پر کیا تھا۔
بعد ازاں انہوں نے اولیور اینڈ کمپنی اور دی لِٹل مرمیڈ پر کام کیا، جبکہ بیوٹی اینڈ دی بیسٹ میں ہیڈ آف اسٹوری کی حیثیت سے نمایاں مقام حاصل کیا۔
1994 میں دی لائن کنگ کی مشترکہ ہدایت کاری نے انہیں عالمی شہرت دلائی۔
ساتھی فنکاروں کے مطابق راجر ایلرز اپنی عاجزی، شفقت اور خوش مزاج شخصیت کے لیے جانے جاتے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: راجر ایلرز
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔