کیرج 3 منصوبے کی بدعنوانی بے نقاب، وزیراعظم نے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
کیرج 3 منصوبے کی بدعنوانی بے نقاب، وزیراعظم نے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 19 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس) قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت ہوا، جس میں سیکریٹری مواصلات اور این ایچ اے کے سی ای او نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں کیرج 3 منصوبے میں بلیک لسٹ غیر ملکی کمپنی کو ٹھیکہ دینے کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے احکامات پر ہونے والی انکوائری مکمل ہو چکی ہے اور این ایچ اے کو ایف بی آر کی جانب سے خط و کتابت موصول ہو چکی ہے۔ چیئرمین ایف بی آر دس دن کے اندر ذمہ داران کا پتہ لگانے کے بعد سزا و جزا کا تعین کر کے وزیراعظم کو رپورٹ پیش کریں گے۔
چیئرمین این ایچ اے نے کہا کہ محکمہ سے جو بھی اس میں ملوث ہے، وہ سزا سے نہیں بچے گا اور یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ٹھیکے میں سنجیدہ نوعیت کی بدعنوانی ہوئی۔
ذیلی کمیٹی نے این ایچ اے کو ہدایت دی کہ اے ڈی بی کے ساتھ نئی شرائط طے کی جائیں اور منصوبہ مختلف پیکجز میں مکمل کیا جائے تاکہ اخراجات میں اضافہ نہ ہو۔
اجلاس میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ جن افسران نے بدعنوانی کی انہیں عبرت کا نشان بنایا جانا چاہیے۔ بعض کمپنیاں افسران کو تبادلوں کی دھمکی بھی دیتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں ایک کمپنی اتنی طاقتور تھی کہ تمام افسران اس کے سامنے سجدہ کرتے تھے اور بدعنوان افسران ایک ناسور ہیں۔
سینیٹر کامل علی آغا نے اجلاس میں انکشاف کیا کہ کسی نے انہیں بتایا کہ یہ سارا معاملہ منصوبے کی قیمت میں اضافے کے لیے کیا گیا اور کچھ انجانے افراد چاہتے ہیں کہ معاملے میں مزید تاخیر ہو۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے ٹھیکیدار ہمارے سینیٹ کے ارکان ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعظیم سبز دیوار: کس طرح لیکویڈ نیچرل کلے پاکستان کو خشک ہوتی دنیا کے خلاف لڑنے میں مدد دے سکتا ہے تیراہ آپریشن صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر بدمعاشی سے شروع کیا گیا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ پاک فضائیہ کا دستہ سپیئرز آف وکٹری-2026 میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا کراچی آتشزدگی: فرانس سفارت خانہ کا متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار نیویارک میں پاکستان کے سفیر کی اعلیٰ سطحی ملاقاتیں، تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر زور فلپائن اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعاون کو وسعت دینے پر زور
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔