جنوبی افریقہ میں ہفتوں سے جاری طوفان بادوباراں: درجنوں ہلاکتیں، ہزاروں بے گھر
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
جنوبی افریقہ نے شدید اور طویل بارشوں کے باعث آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد قومی آفت کا اعلان کر دیا ہے۔ سیلاب کے نتیجے میں درجنوں افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ ہزاروں لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے، جن میں بڑی تعداد نے ہمسایہ ملک موزمبیق میں پناہ لی۔
ہفتوں سے جاری بارشیں، 2 ممالک شدید متاثرجنوبی افریقہ اور موزمبیق میں گزشتہ کئی ہفتوں سے موسلا دھار بارشوں اور طوفانوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جنوبی افریقہ کی شمال مشرقی صوبوں لیمپوپو اور مپومالانگا میں اب تک 30 سے زائد افراد سیلاب کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔
دریاؤں میں طغیانی کے باعث کئی علاقوں میں پانی گھروں اور بستیوں میں داخل ہو گیا، جس سے پورے کے پورے محلے زیرِ آب آ گئے۔
قومی آفت کا باضابطہ اعلانجنوبی افریقہ کے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر کے سربراہ الیاس سیتھولے نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ’میں اس صورتحال کو قومی آفت قرار دیتا ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ ریسکیو ادارے متاثرہ علاقوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اور لاشوں کی بازیابی میں مصروف ہیں۔
کروگر نیشنل پارک دوبارہ کھلنے کا اعلانسیلاب کے باعث جنوبی افریقہ کے مشہور کروگر نیشنل پارک کو جمعرات کے روز بند کر کے سیاحوں کو نکال لیا گیا تھا۔ تاہم حکام کے مطابق بعض علاقوں میں پانی کم ہونا شروع ہو گیا ہے۔
جنوبی افریقہ نیشنل پارکس نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ پارک میں روزانہ کی سیاحتی سرگرمیاں پیر سے بحال کر دی جائیں گی، تاہم عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
موزمبیق میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں سست روی کا شکار رہیں۔ کئی افراد درختوں اور گھروں کی چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 21 دسمبر سے اب تک کم از کم 8 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم لاپتہ افراد کی تعداد سامنے آنے کے بعد ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
چھت پر بچے کی پیدائش، امداد نہ پہنچ سکیموزمبیق کے دارالحکومت ماپوتو کے شمال میں واقع گازا صوبے کی رہائشی چاونا مکواکیوا نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کی بھابھی نے سیلاب کے دوران چھت پر بچے کو جنم دیا۔
انہوں نے کہا ’ہم 4 دن سے یہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ میرا بھتیجا رات 11 بجے پیدا ہوا، لیکن اب تک نہ ماں کو مدد ملی ہے اور نہ بچے کو۔‘
سول سوسائٹی تنظیم پلاٹافورما ڈی سائیڈ کے ڈائریکٹر ولکر ڈیاس کے مطابق کئی افراد لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا ’مجھے لگتا ہے کہ آنے والے گھنٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔‘
جنوبی افریقہ نے اتوار کے روز جنوبی موزمبیق میں بھی ریسکیو ٹیمیں روانہ کیں، جب ایک گاڑی سیلابی پانی میں بہہ گئی۔ اس گاڑی میں جنوبی افریقہ کے ایک میئر کے وفد کے 5 ارکان سوار تھے۔ یہ واقعہ ماپوتو سے تقریباً 200 کلومیٹر شمال میں واقع علاقے چوکوی میں پیش آیا۔
موزمبیق حکومت کے مطابق تازہ اعداد و شمار کے تحت ملک بھر میں سیلاب سے 1 لاکھ 73 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ امدادی ادارے صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے کوشاں ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جنوبی افریقہ سیلاب موزمبیق.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنوبی افریقہ سیلاب جنوبی افریقہ علاقوں میں سیلاب کے کے مطابق کے باعث
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔