زرعی برآمدات کی کامیابی: پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا چاول برآمد کنندہ بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سال 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان نے زرعی برآمدات کے میدان میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے دنیا کے تیسرے بڑے چاول برآمد کنندہ ملک کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔
یہ پیش رفت نہ صرف ملکی معیشت کے لیے خوش آئند ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی زرعی مصنوعات پر بڑھتے اعتماد کی بھی واضح عکاس ہے۔
بین الاقوامی جریدے گلف نیوز نے بھی پاکستانی چاول کی عالمی سطح پر بڑھتی مقبولیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کامیابی کو نمایاں طور پر اجاگر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 میں پاکستانی چاولوں کی برآمدات میں ماہانہ بنیاد پر 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو عالمی منڈی میں پاکستان کی مضبوط پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق باسمتی چاول کی برآمدات میں 50 فیصد سے زائد غیر معمولی اضافہ ہوا، جس نے اس کامیابی میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ دسمبر 2025 کے دوران پاکستان نے 4 لاکھ 89 ہزار ٹن چاول مختلف ممالک کو برآمد کیے، جبکہ اسی عرصے میں ویتنام کی برآمدات 3 لاکھ 87 ہزار ٹن تک محدود رہیں۔
اس شاندار کارکردگی کے نتیجے میں پاکستان نے ویتنام کو پیچھے چھوڑتے ہوئے عالمی درجہ بندی میں تیسری پوزیشن حاصل کر لی۔ پاکستانی چاول کی سب سے زیادہ برآمدات متحدہ عرب امارات، چین، تنزانیہ، کینیا اور آئیوری کوسٹ کو کی گئیں، جہاں پاکستانی باسمتی اپنے معیار اور خوشبو کی بدولت نمایاں مقام رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستانی باسمتی چاول کا عالمی معیار، مسابقتی قیمتیں اور بہتر سپلائی چین بین الاقوامی خریداروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنے ہیں۔ برآمدات میں مسلسل اضافہ زرعی شعبے میں کی گئی اصلاحات، کسانوں کی محنت اور حکومت کی برآمدی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں پاکستان
پڑھیں:
رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔