کینیڈین وزیر اعظم کا ٹرانس پیسفیک دورہ بیجنگ سے کہیں آگے تک پہنچا ہے، چینی میڈیا WhatsAppFacebookTwitter 0 19 January, 2026 سب نیوز

بیجنگ : کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کامیابی سے چین کا اپنا چار روزہ سرکاری دورہ مکمل کیا۔ پیر کے روز چینی میڈیا نے ایک رپورٹ میں کہا کہ یہ آٹھ سالوں میں کینیڈا کے کسی وزیر اعظم کا چین کا پہلا دورہ ہے۔ اس دورے کے دوران، جو عالمی برادری کی عمومی توقعات سے زیادہ مثبت ثابت ہوا، چین اور کینیڈا کے رہنماؤں نے مشترکہ بیان جاری کیا، تعاون کی آٹھ دستاویزات پر دستخطوں کا مشاہدہ کیا اور میکرو اکنامکس، تجارت، توانائی، اور عوامی تحفظ سمیت متعدد شعبوں پر اتفاق رائے حاصل کیا ، جس سے دونوں ممالک کے درمیان ایک نئی قسم کی اسٹریٹجک شراکت داری کا خاکہ تیزی سے واضح ہو رہا ہے۔

کارنی کا دورہ بین الاقوامی منظر نامے میں گہرے ارتقاء کی عکاسی کرتا ہے، روایتی مغربی اتحاد کے نظام کے اندر ابھرنے والی اسٹریٹجک بیداری کی نشاندہی کرتا ہے، اور افراتفری کی شکار بدلتی ہوئی دنیا میں بین الاقوامی تعلقات کے عملی، مساوی، اور پائیدار نئے ماڈل کی زبردست کشش کو ظاہر کرتا ہے۔
اس دورے کے دوران فریقین نے اپنے تعاون کے ٹھوس نتائج پیش کئے۔ اقتصادی اور تجارتی میدان میں، فریقین نے “چین-کینیڈا اکنامک اینڈ ٹریڈ کوآپریشن روڈ میپ” پر دستخط کیے، چین-کینیڈا مشترکہ زرعی کمیٹی کو دوبارہ فعال کیا، اور دو طرفہ اقتصادی اور تجارتی مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک ابتدائی مشترکہ انتظام تشکیل دیا۔

کینیڈا نے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر عائد 100 فیصد امتیازی ٹیرف کو ختم کرکے چین کو 49,000 گاڑیوں کا سالانہ کوٹہ دیا اور “سب سے زیادہ پسندیدہ ملک” ٹیرف کی شرح لاگو کی۔اس کے جواب میں چین نے کینیڈا کےسرسوں کے بیج پر ٹیرف کو نمایاں طور پر کم کردیا، جس سے طویل عرصے سے زیر التوا کینیڈین زرعی مصنوعات کے لیے مستحکم برآمدی راستہ ہموار ہو گیا۔ توانائی کے شعبے میں، وزارتی سطح کے توانائی مکالمے کے آغاز نے صاف توانائی اور روایتی توانائی دونوں میدانوں میں تعاون کو فعال کیا۔ مالیاتی شعبے میں، دو کھرب یوان کے مقامی کرنسی تبادلہ معاہدے پر دستخط نے دو طرفہ اقتصادی اور تجارتی تبادلے کے لیے ایک مضبوط مالیاتی بنیاد رکھی ۔

افرادی و ثقافتی تبادلے کے لحاظ سے، چین-کینیڈا مشترکہ ثقافتی کمیٹی کا دوبارہ آغاز اہلکاروں کے تبادلے اور ثقافتی انضمام کے لیے مؤثر پل کا کردار ادا کرے گا۔
یہ ثمرات چینی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے تجویز کردہ “باہمی احترام، مشترکہ ترقی، باہمی اعتماد اور باہمی تعاون” پر مبنی “چار شراکت داری” فریم ورک کے گہرے معنی کی تصدیق کرتے ہیں، جو دوطرفہ تعلقات کی مستحکم اور طویل مدتی ترقی کی سمت کی رہنمائی کرتا ہے۔


اس وقت بین الاقوامی صورت حال گہری تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا “امریکہ فرسٹ” سخت یکطرفہ پسندی کا موقف، بشمول کینیڈا کو “امریکہ کی 51 ویں ریاست”قرار دینے کے حوالے سے ریمارکس اور اتحادوں کو آلے کے طور پر استعمال اور بلیک میلنگ کے رجحانات، دوسری جنگ عظیم کے بعد سے قائم ہونے والے ٹرانس اٹلانٹک اتحاد میں باہمی اعتماد کی بنیادوں کو متزلزل کر رہے ہیں ۔

ایک تازہ سروے میں پتہ چلا ہے کہ تقریباً 60فیصد کینیڈین امریکہ کو اپنا اولین خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اتحادی ممالک کے درمیان اعتماد میں پیدا ہونے والی دراڑ کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں، کارنی کی بیجنگ میں “ایک مضبوط اور پائیدار نئی قسم کی تزویراتی شراکت داری قائم کرنے” کی تجویز اور ان کا یہ بیان کہ کینیڈا “نئے عالمی نظم و نسق کو اپنانے کے لیے تیار ہے” کوئی عام سفارتی بیان بازی نہیں، بلکہ حقیقت کے درست جائزے پر مبنی ایک اسٹریٹجک اعلان تھا۔ ایک ذمہ دار بڑی طاقت کے طور پر، چین نے ہمیشہ بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے تصور کو برقرار رکھا ہے، خودمختاری کی مساوات اور باہمی فائدے کی وکالت کی ہے، کبھی سیاسی شرائط عائد نہیں کیں، اور تمام ممالک کی ترقی کے لیے ایک مستحکم اور متوقع تعاون پر مبنی ماحول فراہم کیا ہے۔
کینیڈا کی اسٹریٹجک تبدیلی یک قطبی بالادستی سے کثیر قطبی دنیا کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان سے ہم آہنگ ہونے کی ایک واضح مثال ہے۔ اپنے مشترکہ بیان میں، چین اور کینیڈا نے ڈبلیو ٹی او کی مرکزیت پر مبنی کثیرالطرفہ تجارتی نظام کو برقرار رکھنے، اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی حمایت، اور ماحولیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع سمیت دیگر عالمی چیلنجوں پر تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

یہ دو طرفہ تعلقات کے مثبت اثرات کو گلوبل گورننس کی سطح تک بڑھانے کی کوشش ہے۔ مغربی کیمپ کے ایک اہم رکن کے طور پر، کینیڈا کا چین کے ساتھ جامع تعاون کو دوبارہ فعال کرنے کا انتخاب، بلاشبہ ان مغربی ممالک کے لیے ایک مثال قائم کرتا ہے جو اب بھی” کیمپ تصادم” کے وہم میں مبتلا ہیں۔ یورپ مشاہدہ کر رہا ہے، لاطینی امریکہ سوچ رہا ہے، اور زیادہ سے زیادہ ممالک یہ محسوس کر رہے ہیں کہ پرانے نظم و نسق پر مبنی ماڈل، جو نظریے کی بنیاد پر تقسم کرتا ہے ، کیمپوں کے درمیان تصادم پر زور دیتا ہے، اور ایسے رہنماؤں پر انحصار کرتا ہے جو خود استحکام اور اعتبار سے محروم ہو چکے ہیں،وقت کے ساتھ رد کیا جا رہا ہے۔


بیجنگ سے اوٹاوا تک، بحرالکاہل کے مغربی ساحل سے مشرقی ساحل تک، کارنی کا ٹرانس پیسفیک دورہ، خودمختار ممالک کے آزاد ترقی کے لیے عزم کو ظاہر کرتا ہے اور “نئے عالمی نظم و نسق” کی جانب ایک جستجو بھی ۔ مشترکہ ترقی کو اپنا ہدف قرار دیتے ہوئے، چین اور کینیڈا عملی تعاون کے ذریعے بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات کے لیے ایک نیا نمونہ قائم کر رہے ہیں۔ یہ سفر اگرچہ بیجنگ تک پہنچتا ہے، لیکن اس کی منزل مستقبل کی دنیا کے ایک نئے وژن کی نشاندہی کرتی ہے جو تقسیم کے بجائے رابطے، اور اجارہ داری کے بجائے اشتراک کی جستجو پر مبنی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسندھ حکومت کا سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو 1 کروڑ روپے دینے کا اعلان یورپی یونین کا امریکا کیساتھ تجارتی معاہدہ معطل کرنے پر غور روسی فوج سلاویانسک شہر سے 30 کلومیٹردور، یوکرین کے 1210 فوجی ہلاک امریکی افواج کا انخلا، عراق نے اپنے عین الاسد ایئر بیس کا کنٹرول سنبھال لیا ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ چارٹر کا مسودہ 60ممالک کو ارسال، رکنیت کیلئے 1ارب ڈالر دینے کی شرط عائد غزہ بورڈ آف پیس پر اسرائیل کا سخت ردعمل، ٹرمپ منصوبہ مسترد کردیا ایران میں نئی قیادت کی تلاش کا وقت آگیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال