ماہرہ برقع پہنے گی تو ڈانس کیسے کرے گی؟ جواد احمد متنازع بیان پر تنقید کی زد میں آگئے
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
گلوکار اور سماجی کارکن جواد احمد خواتین کے پردے سے متعلق متنازع بیان دینے پر شدید تنقید کی زد میں آگئے۔
تفصیلات کے مطابق جواد احمد حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ کے دوران اس وقت خبروں کی زینت بن گئے جب ان کی ایک خاتون سامع سے تلخ کلامی ہو گئی۔
مبینہ طور پر خاتون نے جواد احمد پر تنقید کی جس پر انہوں نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ تنقید کرنے سے پہلے اپنے طرزِ عمل پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔
جواد احمد نے کہا کہ ان جیسے لوگوں کی جدوجہد کی بدولت آج خواتین کو اپنی پسند کے مطابق زندگی گزارنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس دوران جواد احمد نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی اہلیہ برقع پہنتی ہیں، بہنیں سر ڈھانپتی ہیں، اگر ماہرہ برقع پہنے گی تو ڈانس کیسے کرے گی؟
View this post on Instagramان کی یہ ویڈیو وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر شدید تنقید شروع ہوگئی، صارفین کا کہنا تھا جواد احمد کو لوگوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جواد احمد
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔