لاہور:

حکومتِ پنجاب اور مدارس بورڈز کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں پنجاب حکومت نے علما کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت نہ تو مدارس کے نظام میں مداخلت چاہتی ہے اور نہ ہی دینی نصاب میں تبدیلی اس کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومتِ پنجاب اور مختلف مدارس بورڈز کے نمائندوں کے درمیان ایک اہم اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں مدارس و مساجد کے معاملات کو افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس کی صدارت صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کی، اجلاس میں چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، 10 مدارس عربیہ اور 15 مدارس بورڈز کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں واضح کیا گیا کہ حکومت نہ تو مدارس کے نظام میں کسی قسم کی مداخلت چاہتی ہے اور نہ ہی دینی نصاب میں تبدیلی اس کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ اجلاس میں مدارس کی رجسٹریشن کے عمل کو جلد مکمل کرنے اور تمام فیصلے باہمی مشاورت، اعتماد اور اتحاد کے ساتھ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق مدارس و مساجد کے معاملات مذاکرات اور باہمی مفاہمت سے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا، مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ جلد از جلد حل کیا جائے گا، مدارس رجسٹریشن ایکٹ یا DGRE نظام کے تحت رجسٹریشن کا اختیار برقرار رہے گا، ڈی جی ریلیجس ایجوکیشن (DGRE) کے نظام کے تحت اب تک بیس ہزار سے زائد مدارس رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت کا مدارس یا مساجد کو کنٹرول میں لینے کا کوئی منصوبہ نہیں، مدارس کے دینی نصاب میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جا رہی، تمام فیصلے باہمی اعتماد، اتحاد اور مشاورت سے کیے جائیں گے، مدارس و مساجد سے متعلق اقدامات میں تمام بورڈز کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

شرکا نے مساجد کے آئمہ کے لیے اعزازیہ کو درست سمت میں قدم قرار دیا جب کہ اعزازیہ نہ لینے والے آئمہ پر کسی بھی دباؤ کی مخالفت کی، شرکا نے مدارس اور حکومت کے درمیان روابط مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مدارس کے کے نظام کیا گیا

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔

سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی