پنجاب حکومت کی مدارس کے نظام میں عدم مداخلت اور نصاب تبدیل نہ کرنے کی یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
لاہور:
حکومتِ پنجاب اور مدارس بورڈز کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں پنجاب حکومت نے علما کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت نہ تو مدارس کے نظام میں مداخلت چاہتی ہے اور نہ ہی دینی نصاب میں تبدیلی اس کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومتِ پنجاب اور مختلف مدارس بورڈز کے نمائندوں کے درمیان ایک اہم اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں مدارس و مساجد کے معاملات کو افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس کی صدارت صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کی، اجلاس میں چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، 10 مدارس عربیہ اور 15 مدارس بورڈز کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں واضح کیا گیا کہ حکومت نہ تو مدارس کے نظام میں کسی قسم کی مداخلت چاہتی ہے اور نہ ہی دینی نصاب میں تبدیلی اس کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ اجلاس میں مدارس کی رجسٹریشن کے عمل کو جلد مکمل کرنے اور تمام فیصلے باہمی مشاورت، اعتماد اور اتحاد کے ساتھ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق مدارس و مساجد کے معاملات مذاکرات اور باہمی مفاہمت سے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا، مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ جلد از جلد حل کیا جائے گا، مدارس رجسٹریشن ایکٹ یا DGRE نظام کے تحت رجسٹریشن کا اختیار برقرار رہے گا، ڈی جی ریلیجس ایجوکیشن (DGRE) کے نظام کے تحت اب تک بیس ہزار سے زائد مدارس رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت کا مدارس یا مساجد کو کنٹرول میں لینے کا کوئی منصوبہ نہیں، مدارس کے دینی نصاب میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جا رہی، تمام فیصلے باہمی اعتماد، اتحاد اور مشاورت سے کیے جائیں گے، مدارس و مساجد سے متعلق اقدامات میں تمام بورڈز کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
شرکا نے مساجد کے آئمہ کے لیے اعزازیہ کو درست سمت میں قدم قرار دیا جب کہ اعزازیہ نہ لینے والے آئمہ پر کسی بھی دباؤ کی مخالفت کی، شرکا نے مدارس اور حکومت کے درمیان روابط مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مدارس کے کے نظام کیا گیا
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔