وزیر اعلیٰ سندھ کا گل پلازا کی عمارت دوبارہ تعمیر کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
فوٹو: بشکریہ سندھ حکومت
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازا کی عمارت دوبارہ تعمیر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرین کو فوری دکان دے کر ان کا کاروبار شروع کروا سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت گل پلازا میں لگنے والی آگ پر ہونے والے اجلاس میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بریفنگ دی۔
مرتضیٰ وہاب نے اجلاس کو بتایا کہ 16 فائر ٹرینڈرز اور باؤزر نے آگ بجھانے کا کام کیا، واٹر بورڈ آگ بجھانے کے لیے واٹر ٹینکرز مہیا کرتا رہا۔
سانحہ گل پلازا میں جاں بحق افراد کے ورثاء میں امدادی رقم کی فراہمی کل سے شروع ہو جائے گی: سید مراد علی شاہ
اجلاس کو بتایا گیا کہ اندازاً 50 سے زائد ہلاکتیں ہوسکتی ہیں، آگ بجھا چکے ہیں اور اب کولنگ کا عمل جاری ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ گل پلازا میں شہید فائر فائٹر کا والد بھی فائر فائٹر تھا اور وہ بھی شہید ہوئے تھے۔
ترجمان وزیراعلیٰ کے مطابق اجلاس میں تاجروں نے گل پلازا سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ کو مختلف تجاویز دیں۔
تاجروں نے تجویز کیا کہ دکانداروں کو فوری بحال کیا جائے تاکہ ان کا روزگار شروع ہو۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ بتایا جارہا ہے کہ گل پلازا میں 1200 دکانیں ہیں، یعنی 1200 متاثرین ہیں۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے گل پلازا متاثرین کے لیے کمیٹی قائم کردی، کمیٹی معاوضہ کی رقم اور متاثرین کی بحالی پر سفارشات دے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گل پلازا میں
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔