فوٹو: بشکریہ سندھ حکومت

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازا کی عمارت دوبارہ تعمیر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرین کو فوری دکان دے کر ان کا کاروبار شروع کروا سکتے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت گل پلازا میں لگنے والی آگ پر ہونے والے اجلاس میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بریفنگ دی۔

مرتضیٰ وہاب نے اجلاس کو بتایا کہ 16 فائر ٹرینڈرز اور باؤزر نے آگ بجھانے کا کام کیا، واٹر بورڈ آگ بجھانے کے لیے واٹر ٹینکرز مہیا کرتا رہا۔ 

سندھ حکومت نے سانحہ گل پلازا میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان

سانحہ گل پلازا میں جاں بحق افراد کے ورثاء میں امدادی رقم کی فراہمی کل سے شروع ہو جائے گی: سید مراد علی شاہ

اجلاس کو بتایا گیا کہ اندازاً 50 سے زائد ہلاکتیں ہوسکتی ہیں، آگ بجھا چکے ہیں اور اب کولنگ کا عمل جاری ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ گل پلازا میں شہید فائر فائٹر کا والد بھی فائر فائٹر تھا اور وہ بھی شہید ہوئے تھے۔

ترجمان وزیراعلیٰ کے مطابق اجلاس میں تاجروں نے گل پلازا سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ کو مختلف تجاویز دیں۔ 

تاجروں نے تجویز کیا کہ دکانداروں کو فوری بحال کیا جائے تاکہ ان کا روزگار شروع ہو۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ بتایا جارہا ہے کہ گل پلازا میں 1200 دکانیں ہیں، یعنی 1200 متاثرین ہیں۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے گل پلازا متاثرین کے لیے کمیٹی قائم کردی، کمیٹی معاوضہ کی رقم اور متاثرین کی بحالی پر سفارشات دے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: گل پلازا میں

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان