بلوچستان میں سرکاری بھرتیوں کا عمل شفاف بنانے کے لیے پہلی بار ڈیجیٹل نظام متعارف
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
بلوچستان میں سرکاری محکموں میں بھرتیوں کے عمل کو شفاف بناتے ہوئے پہلی بار ڈیجیٹل نظام قائم کر دیا گیا۔بلوچستان حکومت نےکمپیوٹر، ٹیبلٹس اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شفافیت کو یقینی بنا کر نئی تاریخ رقم کر دی۔وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی کاوشوں سے اک ایسا سنہری باب روشن ہوا جہاں ہر امیدوار کو برابر کا موقع میسر ہوگا۔یہ نظام نہ صرف نوجوانوں کو امید اور یقین دلائے گا بلکہ ان کو محنت سے مستقبل طے کرنے کا موقعہ بھی فراہم کرے گا۔میرٹ پر بھرتی کا عمل نہ صرف روزگار فراہم کر رہا ہے بلکہ نوجوانوں کے ریاست سے بااعتماد رشتے کو بھی مضبوط کر رہا ہے۔گڈ گورننس کا یہی ماڈل بلوچستان کو بدعنوانی سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کر رہا ہے۔شفافیت اور انصاف پر مبنی بھرتیوں کا یہ عمل بلوچستان کے مضبوط، باوقار مستقبل کا ضمانت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔