کراچی:

ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپیہ مضبوط ہونے اورافراط زرکی شرح قابو میں سے نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود مزید گھٹنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے، اسٹیٹ بینک رواں سال کی پہلی مانیٹری پالیسی کا اعلان 26 جنوری کو کرے گا۔

مقامی تحقیقی ادارے کی جانب سے کیے گئے سروے میں 80 فیصد شرکا نے نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں مزید کمی کی توقعات کا اظہارکیا ہے، کوکم کرے گا۔

ریسرچ ادارے کے سروے میں 56 فیصد شرکا نے پالیسی ریٹ میں میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کا اظہارکیا ہے،جبکہ 15فیصد شرکاکاموقف ہے کہ اسٹیٹ بینک شرح سودمیں ایک فیصدکمی کرے گا۔

سروے کے 20فیصد شرکا نے شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ ہونے کاامکان ظاہرکیا ہے جبکہ 5فیصد شرکا نے شرح سودمیں 25 بیسز پوائنٹس کی کمی کی رائے دی ہے۔

سروے کے صرف 3فیصد شرکا نے نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود 75 بیسز پوائنٹس کم ہونے کی توقعات کااظہارکیاہے، واضح رہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 15دسمبر کو 50بیسز پوائنٹس شرح سودکم کی تھی۔

سروے کے 49فیصد شرکانے جون 2026 تک شرح سود 10فیصد پر برقراررہنے کی رائے دی ہے، جبکہ 46فیصد شرکا نے جون 2026 تک شرح سود 10فیصد سے کم ہونے کی رائے دی ہے۔

سروے رپورٹ میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ روپے کی قدر میں تسلسل سے بہتری، ترسیلات زر کا بڑھنا، مہنگائی میں کمی، شرح سودکو 10.

5فیصد سے کم کرسکتی ہے۔

Tagsپاکستان

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل مانیٹری پالیسی شرکا نے

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی