رواں سال کی پہلی مانیٹری پالیسی کا اعلان 26 جنوری کو ہو گا
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
کراچی:
ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپیہ مضبوط ہونے اورافراط زرکی شرح قابو میں سے نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود مزید گھٹنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے، اسٹیٹ بینک رواں سال کی پہلی مانیٹری پالیسی کا اعلان 26 جنوری کو کرے گا۔
مقامی تحقیقی ادارے کی جانب سے کیے گئے سروے میں 80 فیصد شرکا نے نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں مزید کمی کی توقعات کا اظہارکیا ہے، کوکم کرے گا۔
ریسرچ ادارے کے سروے میں 56 فیصد شرکا نے پالیسی ریٹ میں میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کا اظہارکیا ہے،جبکہ 15فیصد شرکاکاموقف ہے کہ اسٹیٹ بینک شرح سودمیں ایک فیصدکمی کرے گا۔
سروے کے 20فیصد شرکا نے شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ ہونے کاامکان ظاہرکیا ہے جبکہ 5فیصد شرکا نے شرح سودمیں 25 بیسز پوائنٹس کی کمی کی رائے دی ہے۔
سروے کے صرف 3فیصد شرکا نے نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود 75 بیسز پوائنٹس کم ہونے کی توقعات کااظہارکیاہے، واضح رہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 15دسمبر کو 50بیسز پوائنٹس شرح سودکم کی تھی۔
سروے کے 49فیصد شرکانے جون 2026 تک شرح سود 10فیصد پر برقراررہنے کی رائے دی ہے، جبکہ 46فیصد شرکا نے جون 2026 تک شرح سود 10فیصد سے کم ہونے کی رائے دی ہے۔
سروے رپورٹ میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ روپے کی قدر میں تسلسل سے بہتری، ترسیلات زر کا بڑھنا، مہنگائی میں کمی، شرح سودکو 10.
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل مانیٹری پالیسی شرکا نے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔