روس میں ’برفانی قیامت‘: کامچاٹکا میں ریکارڈ برفباری، شہر دب گئے، ویڈیوز وائرل
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
روس کے مشرقی علاقے کامچاٹکا میں شدید برفانی طوفان نے ایسا حیران کن منظر پیدا کردیا ہے جسے دیکھ کر دنیا دنگ رہ گئی۔
ریکارڈ توڑ برفباری کے باعث سڑکیں، گاڑیاں اور مکانات کئی میٹر گہری برف میں دب گئے، جبکہ کم از کم دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ غیرمعمولی صورتحال کے پیشِ نظر حکام نے ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔
شدید سرد طوفان نے کامچاٹکا جزیرہ نما کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں روزمرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ برف کے اتنے بڑے ڈھیر جم گئے کہ بعض عمارتوں کی دوسری اور حتیٰ کہ چوتھی منزل تک برف جا پہنچی۔ ان مناظر نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا اور دنیا بھر میں لوگ ان غیرمعمولی ویڈیوز کو حیرت سے دیکھتے رہے۔
A powerful snowstorm has struck Russia’s Kamchatka, paralysing daily life and transport and prompting widespread road closures.
Local authorities say the region is experiencing its harshest winter in more than three decades. pic.twitter.com/LfsU51V06S — Al Jazeera English (@AJEnglish) January 18, 2026
کامچاٹکا کے دارالحکومت پیٹروپاولوسک - کامچاٹسکی میں صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے، جہاں شہر برف کی سفید چادر میں مکمل طور پر ڈھک چکا ہے۔ آن لائن شیئر کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑیاں مکمل طور پر برف میں دفن ہیں اور لوگ گھروں سے باہر نکلنے کے لیے برف میں سرنگیں بنا رہے ہیں۔ بعض مناظر میں شہریوں کو کھڑکیوں سے برف کے اونچے ڈھیروں میں چھلانگ لگاتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جو اس قدرتی آفت کی شدت کو واضح کرتا ہے۔
???? روس کے مشرقی حصے میں واقع کمچٹکا جزیرے میں سردی کے مناظر pic.twitter.com/vZwVENuo0Y
— RTEUrdu (@RTEUrdu) January 19, 2026ماہرینِ موسمیات کے مطابق یہ طوفان گزشتہ کئی دہائیوں کے شدید ترین برفانی طوفانوں میں سے ایک ہے۔ کئی علاقوں میں برف کی موٹائی کئی میٹر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بعض مقامات پر برفباری کی سطح ایک صدی سے زائد عرصے میں ریکارڈ ہونے والی بلند ترین سطح کے برابر بتائی جا رہی ہے۔
صورتحال پر قابو پانے کے لیے مقامی حکام نے ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ شہر کے میئر ییوجینی بیلیایف نے عمارتوں کے منتظمین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت چھتوں سے برف ہٹا دی جاتی تو خطرات کم ہو سکتے تھے۔ حکام کے مطابق اضافی عملہ سڑکیں کھولنے اور برف میں پھنسے شہریوں کی مدد کے لیے تعینات کر دیا گیا ہے۔
شدید برفباری کے باعث اسکول عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں جبکہ متعدد کاروباری سرگرمیاں بھی معطل ہو چکی ہیں۔ خطرناک سڑکوں کے باعث کئی علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ روک دی گئی ہے اور شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ جہاں ممکن ہو گھروں سے کام کریں۔
اس قدرتی آفت کے دوران افسوسناک واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ پیٹروپاولوسک - کامچاٹسکی میں کم از کم دو افراد اس وقت جاں بحق ہو گئے جب عمارتوں کی چھتوں سے برف اور برفانی تودے کھسک کر ان پر آ گرے۔ امدادی اداروں نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ برف کے ڈھیر اور چھتوں پر جمع برف کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔
Locals in Russia’s Kamchatka Peninsula are calling it a “snow apocalypse” after record-breaking snowfall buried towns, blocked roads, and forced a state of emergency, with snow piling up to building levels in some areas.pic.twitter.com/cWutM1L9wX
— Volcaholic ???? (@volcaholic1) January 17, 2026ہنگامی خدمات نے خطرناک حرکات سے باز رہنے کی بھی ہدایت کی ہے، خاص طور پر اونچے برفانی ڈھیروں میں چھلانگ لگانے سے، کیونکہ برف کے نیچے گاڑیاں یا نوکیلی اشیا چھپی ہو سکتی ہیں جو شدید چوٹ کا باعث بن سکتی ہیں۔
برفانی طوفان نے علاقے میں رسد کا نظام بھی متاثر کر دیا ہے۔ کئی سڑکیں بند ہونے کے باعث دکانوں تک اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، جس کے نتیجے میں روٹی، دودھ اور انڈوں جیسی بنیادی اشیا کی قلت سامنے آ رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قلت عارضی ہے اور سڑکوں کی بحالی کے ساتھ سپلائی آہستہ آہستہ بحال کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ طوفان شمالی بحرالکاہل میں بننے والے طاقتور موسمی نظاموں کا نتیجہ ہے، جو شدید برفباری اور تیز ہواؤں کو جنم دیتے ہیں۔ اگرچہ کامچاٹکا کا ذیلی قطبی موسم برفباری کے لیے مشہور ہے، تاہم اس بار برفباری کی شدت اور دورانیہ غیرمعمولی رہا، جس نے یہاں کے پرانے باسیوں کو بھی حیران کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے غیرمعمولی موسمی واقعات مستقبل میں شمالی علاقوں میں زیادہ دیکھنے کو مل سکتے ہیں، تاہم اس پر حتمی رائے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے، خاص طور پر ان دور دراز خطوں میں جو سمندری اور فضائی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے باعث کے لیے برف کے
پڑھیں:
5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
وزیراعلیٰ پنجاب(chief minister punjab) کی ہدایات پر تمام کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری تاکہ برساتی نالوں کی صفائی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل رکھے جائیں؛ ترجمان پی ڈی ایم اے
پنجاب کے میدانی اور بالائی علاقوں میں چند روز سے جاری شدید گرمی کے بعد اب بیشتر اضلاع میں طوفانی ہواؤں، گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کی اہم پیشگوئی جاری کی ہے
بتایا گیا ہے کہ راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، جہلم، چکوال، گوجرانوالہ، حافظ آباد، سیالکوٹ، نارووال اور شیخوپورہ، سرگودھا، میانوالی، خوشاب، منڈی بہاؤالدین، فیصل آباد، جھنگ و گردونواح، لاہور، اوکاڑہ، بھکر اور لیہ میں بارشوں کا امکان ہےْ
جس کے باعث وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایات کے پیشِ نظر صوبے بھر کے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے تاکہ برساتی نالوں کی صفائی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل رکھے جائیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر جاوید نے خراب موسم کے دوران شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی ہے کہ شہری آسمانی بجلی سے بچنے کے لیے محفوظ مقامات کے اندر رہیں اور گرج چمک کے دوران کھلے مقامات یا درختوں تلے ہرگز کھڑے نہ ہوں۔
کسان اپنی فصلوں کی کٹائی اور سنبھال سمیت تمام تر پیشگی اقدامات موجودہ موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں، مری، گلیات اور شمالی علاقہ جات کے سفر پر روانہ ہونے والے سیاح موسم کی شدت کو دیکھتے ہوئے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
مزید پڑھیں:شہری پی ڈی ایم اے کی آفیشل ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں
کسی بھی بھی ناگہانی یا ایمرجنسی صورتحال کی صورت میں شہری فوری طور پر پی ڈی ایم اے کی آفیشل ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔