آسان اقساط پر الیکٹرک اسکوٹیز کی فراہمی، بلوچستان حکومت اور نیشنل بینک کے درمیان معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
چیف منسٹر سیکریٹریٹ کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی موجودگی میں حکومتِ بلوچستان اور نیشنل بینک آف پاکستان کے درمیان عوام، ورکنگ ویمن اور طلبہ کو سبسڈائزڈ اقساط پر الیکٹرک اسکوٹیز فراہم کرنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردیے گئے۔
مزید پڑھیں: سندھ حکومت کی جانب سے خواتین میں پنک اسکوٹیز تقسیم
اس موقع پر صوبائی وزیر میر صادق عمرانی، اعلیٰ صوبائی حکام اور نیشنل بینک آف پاکستان کے سینیئر عہدیداران بھی موجود تھے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاکہ عوام، طلبہ اور بالخصوص ورکنگ ویمن کو بہتر، باوقار اور کم خرچ سفری سہولیات فراہم کرنا صوبائی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہاکہ الیکٹرک اسکوٹیز کی یہ اسکیم مختلف طبقات کے لیے سفری مشکلات میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ ایندھن کے متبادل، کم لاگت اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت ان تمام منصوبوں اور اسکیموں کو عملی شکل دے گی جن کے براہِ راست فوائد عوام تک پہنچیں اور جن سے روزمرہ زندگی میں آسانی اور بہتری آئے۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ میں گرین بس سروس میں توسیع اور خواتین کے لیے پنک بس سروس کا افتتاح
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیاکہ حکومت بلوچستان عوامی فلاح و بہبود پر مبنی منصوبوں کے ذریعے نوجوانوں، خواتین اور عام شہریوں کو بااختیار بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews الیکٹرک اسکوٹیز بلوچستان بلوچستان حکومت نیشنل بینک وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکٹرک اسکوٹیز بلوچستان بلوچستان حکومت وی نیوز الیکٹرک اسکوٹیز کے لیے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔