گلگت بلتستان زلزلہ: ایک جاں بحق، متعدد زخمی، وادی چپورسن میں 40 مکانات منہدم
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
گلگت بلتستان اور گرد و نواح میں پیر کی صبح 11 بج کر 21 منٹ پر زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں زلزلے کے جھٹکے، ہنزہ میں عمارات منہدم، شدت 5.9 ریکارڈ
زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.9 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کا مرکز کریم آباد سے تقریباً 49 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔
زلزلے کے باعث سب سے افسوسناک واقعہ اشکومن میں بدصوات جھیل کے قریب پیش آیا جہاں پہاڑ سے گرنے والے پتھروں کی زد میں آکر ایک موٹر سائیکل سوار موقعے پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا جسے امیت اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
زودخون گاؤں میں بھائی بہن زخمیدریں اثنا وادی چپورسن (ہنزہ) میں بھی زلزلے نے شدید تباہی مچائی ہے جہاں املاک اور بنیادی ڈھانچے کو سخت نقصان پہنچا ہے۔
زودخون گاؤں میں بھائی بہن زخمی ہوئے ہیں۔ طبی ذرائع کے مطابق بچوں کے سروں پر چوٹیں آئی ہیں جس کے باعث انہیں سی ٹی اسکین کے لیے ریفر کیا گیا ہے جبکہ 40 سے زائد مکانات تباہ ہوچکے ہیں۔
مزید پڑھیے: خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں برفباری، لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری
متاثرین منفی 20 ڈگری میں کھلے آسمان تلے بے بسی کے عالم میں ہیں اور سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے انہیں علی آباد یا گلگت منتقل کرنے میں بھی شدید دشواری کا سامنا ہے۔
مقامی آبادی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زخمی بچوں کی جان بچانے کے لیے فوری طور پر ہیلی کاپٹر سروس فراہم کی جائے۔
چپورسن کا زمینی رابطہ کٹ گیازلزلے کے نتیجے میں شاہراہِ قراقرم کے مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے جس سے آمد و رفت معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ وادی چپورسن کا زمینی رابطہ بھی مکمل طور پر کٹ چکا ہے۔
محکمہ ورکس ہنزہ کے مطابق سوست اور پسو سے بھاری مشینری چپورسن روڈ کو کھولنے کے لیے روانہ کر دی گئی ہے۔
پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث گرد و غبار کے بادل چھائے رہے جس سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں۔
مزید پڑھیں: شدید سردی کے باعث گلگت بلتستان کے عام انتخابات ملتوی
محکمہ صحت ہنزہ نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سوست سے پیرامیڈیکل اسٹاف کو متحرک کر دیا ہے۔
عوام کو احتیاط کی ہدایتضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے ہائی الرٹ ہیں اور متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
انتظامیہ نے عوام کو پہاڑی راستوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے والے مقامات پر سفر سے گریز کریں۔ ندی نالوں کے قریب جانے سے احتیاط برتیں۔
یہ بھی پڑھیے: چین کی جانب سے گلگت بلتستان کے طلبا کے لیے تعلیمی معاونت میں اضافے کا فیصلہ
عوام کو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو اداروں سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی فراہمی اور بند راستوں کو جلد از جلد کھولنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان میں آئندہ حکومت کون سی جماعت بنائے گی؟
زلزلے کے جھٹکے پاکستان کے علاوہ چین، تاجکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اشکومن بدصوات جھیل چپورسن زلزلے سے متاثر زودخون گاؤں گلگت بلتستان زلزلہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اشکومن بدصوات جھیل زودخون گاؤں گلگت بلتستان زلزلہ لینڈ سلائیڈنگ گلگت بلتستان علاقوں میں زلزلے کے کے باعث کے لیے گئی ہے
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔