اپوزیشن لیڈر کی قومی اسمبلی میں تقریر، ایوان کو مضبوط بنانے اور حکومت کے مشروط ساتھ کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
اسلام آباد:اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے قائد حزب اختلاف کا منصب سنبھالنے کے بعد قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں ایوان کی طاقت اور وقار کو بڑھانے پر زور دیا اور حکومت کو عوامی فلاح کے اقدامات پر مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دیا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے اور ہر اچھے کام میں اپوزیشن بھی تعاون کرے گی، برے کاموں میں کسی کا ساتھ دینا درست نہیں اور ایوان میں ایسی باتیں نہیں کی جائیں جو گھر کی چار دیواری یا اصولوں کے خلاف ہوں۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ انہوں نے ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے مشکل وقت میں اصول کی بنیاد پر ساتھ دیا اور اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کی، اچھے اقدامات کے لیے ووٹ دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی، اور داخلہ، خارجہ اور معاشی پالیسیاں ایوان میں مشترکہ طور پر بنائی جائیں گی۔
خطاب کے دوران محمود خان اچکزئی نے عالمی صورتحال، خطے کے خطرات اور داخلی مسائل پر بھی روشنی ڈالی، بعض طاقتیں خطے کو جنگ کے میدان میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں اور پاکستان کی خود مختاری اور سلامتی کے لیے ہمیں چوکس رہنا ہوگا، فوج اور پولیس اتنی مضبوط ہیں کہ عوام محفوظ ہیں اور ہمیں اپنے لوگوں پر اعتماد کرنا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے سابقہ فاٹا کی شمولیت، صوبائی حقوق، معاشی مسائل اور عالمی امور جیسے کشمیر، افغانستان اور مشرق وسطیٰ کے تعلقات پر بھی بات کی، پاکستان کو درست پالیسیوں کے ذریعے مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور عوام کی فلاح کے لیے ایوان میں مثبت اقدامات کی ضرورت ہے۔
آخر میں محمود خان اچکزئی نے عدم تشدد، انصاف اور قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایوان میں سب کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ پاکستان مضبوط اور خودمختار رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن لیڈر ایوان میں
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔