Jasarat News:
2026-07-24@10:05:15 GMT

ٹرمپ: شتر بے مہار

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسا نام بن چکا ہے جو صرف امریکا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے حیرت، تشویش اور اضطراب کا باعث ہے۔ ان کے حالیہ بیانات اور اقدامات یہ واضح کرتے جا رہے ہیں کہ وہ واقعی امریکا کے لیے وہی کردار ادا کرنے جا رہے ہیں جو کبھی سوویت یونین کے لیے میخائل گورباچوف نے ادا کیا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ گورباچوف نے اصلاحات کے نام پر ایک سلطنت کو اندر سے کمزور کیا، جبکہ ٹرمپ طاقت، غرور اور انا کے بل بوتے پر امریکا کو خود اپنے ہی ہاتھوں عدم استحکام کی طرف دھکیلتے دکھائی دیتے ہیں۔ وینزویلا کے معاملے کو ہی لے لیجیے۔ ایک خودمختار ملک کے منتخب صدر اور ان کی اہلیہ کو ان کے بیڈروم سے اغوا کرنے کی کہانی، پھر خود کو وینزویلا کا قائم مقام صدر تسلیم کر لینا اور اس ملک کے تیل کو اپنی جاگیر سمجھنے کا طرزِ فکر یہ سب کچھ بین الاقوامی قوانین، اخلاقیات اور سفارتی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ دنیا نے اس پر کیا ردِعمل دیا، سوال یہ ہے کہ کیا امریکا واقعی اسی راستے پر چل رہا ہے جہاں طاقت کو قانون اور خواہش کو اصول بنا لیا گیا ہو؟

ٹرمپ کی نظر صرف وینزویلا تک محدود نہیں رہی۔ میکسیکو کے ساتھ دیوار، گرین لینڈ کو خریدنے کی خواہش، اور اب تو کینیڈا جیسا قریبی اتحادی بھی ان کے نشانے پر ہے۔ یہ کہنا کہ ’’کینیڈا امریکا کی اکاون ویں ریاست بنے گا اور کینیڈین عوام اس فیصلے پر خوش ہوں گے‘‘، محض سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک ایسی ذہنیت کی عکاسی ہے جو دنیا کو شطرنج کی بساط سمجھتی ہے اور ممالک کو مہرے۔ یہاں پاکستانی فلمی دنیا کا وہ مشہور گیت یاد آتا ہے: ’’انوکھا لاڈلا، کھیلن کو مانگے چاند‘‘ ٹرمپ واقعی دنیا کا وہی انوکھا لاڈلا بن چکا ہے جسے ہر وہ چیز چاہیے جو اس کی خواہش میں آ جائے، خواہ وہ کسی اور کی ہو، کسی ملک کی ہو یا کسی قوم کی خودمختاری ہو۔

کراچی کی سیاست میں ایک زمانے میں ایک جماعت کے رہنما کا ایک مخصوص جملہ بڑا مشہور تھا۔ جس شخص کو وہ ناپسند کرتے، اس کے بارے میں کہتے: ’’کل مجھے اس کی فاتحہ پڑھنی ہے‘‘۔ اور حیرت انگیز طور پر اگلے دن اس کے گھر کے باہر سفید ٹینٹ لگا ہوتا، لوگ بیٹھے مرحوم کے اوصاف بیان کر رہے ہوتے کہ ’’بہت اچھے انسان تھے‘‘۔ آج عالمی سیاست میں ٹرمپ بھی کچھ اسی انداز میں کردار نبھا رہے ہیں۔ جس ملک، ادارے یا معاہدے کو وہ ناپسند کرتے ہیں، اس کے سیاسی جنازے کی تاریخ خود ہی مقرر کر دیتے ہیں۔ اگر ٹرمپ کو فلمی کرداروں میں ڈھالا جائے تو وہ مولا جٹ کے نوری نتھ (مصطفی قریشی)، پڑوسی ملک کی شہرۂ آفاق فلم شعلے کے گبر سنگھ، یا 1995 کی ہالی ووڈ فلم DESPERADO کے ولن بوچو (Bucho) سے کم نظر نہیں آتے۔ ایک ایسا کردار جو اپنی طاقت کے نشے میں ہر حد پار کرنے کو تیار ہو، جسے نہ قانون کا خوف ہو اور نہ انجام کا احساس۔ لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقت کا غرور ہمیشہ دیرپا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی شان بھی نرالی ہے۔ وہ چاہے تو دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے سب سے طاقتور انسان سے ہی اس کے زوال کا سامان پیدا کر دے۔ جیسے فرعون کے گھر میں، اس کی قابل ِ احترام زوجہ سیدہ آسیہؑ کے ذریعے، سیدنا موسیٰؑ کی پرورش کروائی گئی وہی موسیٰؑ جو آگے چل کر فرعون کے اقتدار کے خاتمے کا ذریعہ بنے۔

آج امریکا کے اندر بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم، نسلی کشیدگی، ادارہ جاتی کمزوری اور عالمی سطح پر تنہائی اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ ٹرمپ کا دور محض ایک شخص کا دور نہیں بلکہ ایک پورے نظام کے امتحان کا نام ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ کب تک اقتدار میں رہیں گے، اصل سوال یہ ہے کہ ان کے بعد امریکا کی شکل کیا ہوگی؟ تاریخ کا ایک بے رحم اصول ہے: جب طاقت عقل سے آزاد ہو جائے تو زوال مقدر بن جاتا ہے۔ ٹرمپ شاید خود کو تاریخ کا فاتح سمجھتے ہوں، مگر بعید نہیں کہ آنے والی نسلیں انہیں اس شخص کے طور پر یاد رکھیں جو امریکا کے لیے گورباچوف ثابت ہوا فرق صرف یہ ہوگا کہ یہاں سامراج باہر سے نہیں، اندر سے ٹوٹا۔

 

امیر محمد کلوڑ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سوال یہ کے لیے ہیں کہ

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران