مہمند ڈیم کا دورہ، سستی بجلی کیلئے پراجیکٹ کی بلاتاخیر تکمیل اہم: چیئرمین واپڈا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) چیئرمین واپڈا نے مہمند ڈیم کا دورہ کیا اور پیش رفت کا جائزہ لیا۔ مہمند ڈیم پراجیکٹ کی 10 اہم سائٹس پر تعمیراتی کام تسلی بخش رفتار سے جاری ہے۔ گزشتہ سال کے وسط میں مین ڈیم فاؤنڈیشن کی کھدائی مکمل ہونے پر مرکزی ڈیم کی بھرائی سطحِ سمندر سے 392 میٹر کی بلندی تک پہنچ چکی ہے۔ سپل وے تقریباً 70 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ یہ بات چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید (ریٹائرڈ) کو مہمند ڈیم پراجیکٹ کے دورے کے دوران پراجیکٹ انتظامیہ کی جانب سے تعمیراتی پیش رفت پر بریفنگ کے دوران بتائی گئی۔ اپنے دورے میں چئیرمین نے سپل وے، مین ڈیم، ڈیم کے لئے درکار میٹریل ذخیرہ کرنے کا ایریا اور پاور ہاؤس سمیت تمام اہم سائٹس پر تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ جنرل منیجر/ پراجیکٹ ڈائریکٹر عاصم رؤف خان نے پراجیکٹ ٹیم، کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کے ہمراہ چیئرمین کو ہر سائٹ پر پیش رفت، ٹائم لائنز اور اہداف حاصل کرنے کے لئے حکمت عملی بارے آگاہ کیا۔ سائٹس کے دورے کے بعد چیئرمین نے واپڈا پراجیکٹ ٹیم، کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹر کے ساتھ منعقدہ اجلاس کی صدارت کی۔ چیئرمین نے کہا کہ ملک میں پانی اور سستی بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پورا کرنے کے لیے مہمند ڈیم پراجیکٹ کی بلا تاخیر تکمیل انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کنٹریکٹر اہداف کے حصول کے لیے کنٹریکٹ کی رو سے پراجیکٹ پر اضافی وسائل مہیا کرے۔ چیئرمین نے کنسلٹنٹس پر زور دیا کہ وہ منصوبے کی مقررہ مدت میں تکمیل کے لیے نظرثانی شدہ شیڈول پر عمل درآمد یقینی بنائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مہمند ڈیم
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔