روس کے جزیرے کامچاٹکا میں 60 سال کی بدترین برفباری، گاڑیاں اور عمارتیں دب گئیں
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
روس کے مشرقِ بعید میں واقع کامچاٹکا جزیرہ نما میں گزشتہ 60 برس کی سب سے شدید برفباری ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث کئی میٹر اونچے برفانی تودے بن گئے، عمارتوں کے داخلی راستے بند ہو گئے اور گاڑیاں مکمل طور پر برف میں دب گئیں۔
موسمیاتی اسٹیشنوں کے مطابق جنوری کے پہلے 15 دنوں میں بعض علاقوں میں 2 میٹر (تقریباً ساڑھے 6 فٹ) سے زیادہ برف پڑ چکی ہے، جبکہ دسمبر میں ہی 3.
یہ بھی پڑھیے: پاک چین سرحد پر برفباری اور پابندیاں، تاجر شدید مشکلات کا شکار
اگرچہ کامچاٹکا میں شدید برفباری کوئی غیر معمولی بات نہیں، کیونکہ یہ جزیرہ نما جاپان کی سمت پھیلا ہوا ہے، تاہم حالیہ برفباری نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔
رائٹرز کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑیاں کئی میٹر برف میں تقریباً مکمل طور پر دفن ہو چکی ہیں، جبکہ فور وہیل ڈرائیو گاڑیاں بھی برف پر گرفت برقرار رکھنے میں ناکام نظر آتی ہیں یا مکمل طور پر برف میں پھنس گئی ہیں۔ مقامی افراد کو رہائشی عمارتوں کے داخلی راستوں تک پہنچنے کے لیے خود راستے کھودنے پڑ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: شدید برفباری میں اسکول جانے والے بچے کی ویڈیو وائرل، صدر نے ملاقات میں بڑا اعلان کردیا
پیٹروپاولوسک-کامچاتسکی کی رہائشی اور فوٹوگرافر لیودمیلا موسکویچیوا نے بتایا، ‘میں کل شہر میں سیر کا ارادہ رکھتی ہوں، لیکن بدقسمتی سے میری گاڑی ایک ماہ سے برف کے تودے میں پھنسی ہوئی ہے۔’
روسی میڈیا پر جاری ویڈیوز میں شہریوں کو ٹریفک لائٹس کے برابر اونچے برفانی تودوں پر چلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ سڑکوں کے کناروں پر کئی میٹر اونچے برف کے ڈھیر موجود ہیں، جو اس شدید موسمی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برفباری روس موسم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔